مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 181 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 181

181 ہیں، ان کی قبروں پر جا کر ذبح کرتے ہیں۔اسی طرح وہ روزے جو عورتیں پیروں اور بیبیوں کی نیت پر رکھتی ہیں۔۔۔اور اپنے مطلبوں اور مقصودوں کو ان روزوں پر موقوف کرتی ہیں اور ان روزوں کے ذریعے ان سے حاجتیں طلب کرتی ہیں۔یہ سب عبادت میں شرک ہے۔اے وفات آپ نے 28 صفر المظفر 1034ھ کی شب دوران علالت اپنے خدام سے فرمایا ”اج ملا وا کنت سوں سکھی سب جگ دینواں وائے۔آج وصال یار ہے اس لیے میں سارا جہاں بخوشی شمار کرتا ہوں۔پھر آپ نے صحیحین کی ادعیہ پڑھیں اور تہجد ادا کی۔نماز فجر با جماعت پڑھی اور حکم دیا کہ مجھے فرش پر لٹا دو اور سنت کے مطابق سر مبارک بطرف شمال اور چہرہ بسوئے کعبہ، دایاں ہاتھ زیر خسارتھا۔ذکر الہی میں مشغول تھے اور ایسی حالت میں جان جان آفرین کے سپر د کر دی۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔اے تجدیدی کارنامے دین الہی ، مشرکانہ رسومات اور روافض وغیرہ آپ کے دور کے فتنے تھے اور آپ نے ان کو ختم کرنے کیلئے اپنی زندگی وقف کر دی۔دعوی مجددیت آپ کے مکتوبات میں آپ کے مجدد ہونے کا دعوی بھی ملتا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:- اگر گوید که فهم کند و که در یا بد این معارف از حیطه ولایت ارباب ولایت در رنگ علماء ظواهر در ادراک آن عاجزاند و در درک آن قاصر این علوم متقیس از مشکوۃ انوار نبوت اند علی اربا بہا۔الصلوٰۃ والسلام والتحیة که بعد از تجدید الف ثانی به تبعیت و وراثت تازه گذشته اند و بطراوت ظهور یافتہ صاحب این علوم و معارف مجدد ایں الف است کمالا يخفى على الناظرين في علومه و معرفته التي تتعلق بالذات والصفات والافعال و تتلبس بالاحوال والمواجيد والتجليات والظهورات فيعلمون ان مولاء العارف لب ذلك القشر والله سبحانه الهادی و