مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 180 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 180

180 اس دین کی شناخت قرار پائی اور تمام اسلام کی رسومات کو ہزار سال پرانی رسومات کہہ کر ترک کر دیا گیا۔بادشاہ کو خدا کا او تا سمجھ کرسجدہ تعظیمی لازمی قرار دیا گیا۔روافض اسلام دشمنی کا کھلم کھلا اظہار کرتے تھے۔خود بادشاہ وقت بزرگان دین سے عداوت رکھتا تھا۔ایسے حالات میں ایک مجدد کب خاموش رہ سکتا تھا۔ناممکن تھا کہ آپ (مجدد الف ثانی ) اسلام اور صحابہ کرام کی تضحیک پر بھی مہر بلب رہتے۔آپ نے رڈ روافض میں ایک رسالہ لکھا اور ان کے عقائد باطلہ کی تردید فرمائی۔اکبر کے بعد جہانگیر بادشاہ بنا۔اس کا وزیر السلطنت آصف جاہ رافضی تھا۔اس نے حضرت مجددالف ثانی کے خلاف بادشاہ کے کان بھرے تو اس نے سرکاری کارندہ بھیج کر انہیں دربار میں بلایا۔چنانچہ 1028ھ میں آپ آگرے تشریف لائے آپ نے بادشاہ کو سجدہ تعظیمی نہ کیا۔آصف جاہ کے بے سروپا سوالات کے آپ نے شافی و مسکت جواب دیئے۔جب اس سے کچھ بن نہ پڑا تو سجدۂ تعظیمی نہ کرنے کی بابت پوچھا۔تو فرمایا: - یہ سر قدوس کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکتا اور یہ جبیں خالق ارض و سما کے علاوہ کسی کے آگے نیاز نہیں ہوتی۔2 چنانچہ وزیر کے اکسانے پر جہانگیر نے آپ کو گوالیار کے قلعے میں باغیوں کے ساتھ قید کرادیا۔حضرت مجددالف ثانی نے اپنے مکتوبات میں اس زمانے کی بدر سوم کا نقشہ یوں کھینچا ہے۔اکثر عور تیں کمال جہالت کے باعث اس قسم کی ممنوع استمداد میں مبتلا ہیں۔۔۔وو خاص کر مرض چیچک کے وقت نیک اور بد عورتوں سے یہ بات مشہور و محسوس ہوتی ہے شاید ہی کوئی عورت ہو جو اس شرک سے خالی ہو اور شرک کی کسی رسم میں مبتلا نہ ہو۔ہندوؤں کے بڑے دن کی تعظیم کرتی اور ان کی مشہور رسموں کو بجالاتی ہیں ، اور اپنی عید مناتی ہیں اور کافروں اور مشرکوں کی طرح ہر یسے اور تحفے اپنی بیٹیوں، بہنوں کو بھیجتی ہیں اور اس موسم میں اپنے برتنوں کو رنگ کر کے ان کو سرخ چاولوں سے بھر کر بھیجتی ہیں۔اور اس موسم کا بڑا شان اور اظہار بناتی ہیں۔یہ سب شرک اور دین اسلام کا کفر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وما یومن اکثرهم بالله الا وهم مشركون (يوسف: 107)۔حیوانات کو مشائخ کی نذر کرتے