مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 179
وفات 179 ہیں:۔آپ 28 صفر 1034 ھ کوسر ہند میں فوت ہوئے۔21 مسلمانوں کی حالت زار حضرت مجددالف ثانی خود اس وقت مسلمانوں کی حالت کا بیان ایک مکتوب میں یوں کرتے کفار بے تحاشہ مسجدوں کو شہید کر کے وہاں مندر بنا رہے ہیں۔تھانیسر میں ایک مسجد اور ایک بزرگ کا مقبرہ تھا اسے گرا کر اس کی جگہ بڑا بھاری مندر تعمیر کرایا ہے۔اس کے علاوہ کفار اپنی رسموں کو کھلم کھلا ادا کر رہے ہیں اور مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ ان شرارتوں اور مخالفتوں کے سبب اکثر احکام اسلامی کے بجالانے سے قاصر ہیں۔ایکارشی کے دن ہندو کھانا ترک کر دیتے ہیں اور یہ کہ اس دن اسلامی شہروں میں بھی کوئی مسلمان روٹی نہ پکائے اور نہ بیچے اور ماہِ رمضان میں ہندو برملا نان و طعام پکاتے اور بیچتے ہیں۔مگر اسلام کے مغلوب ہونے کے باعث انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ہائے افسوس بادشاہ وقت ہم میں سے ہو اور پھر ہم فقیروں کا اس طرح خستہ اور خراب حال ہو۔ہے دیگر حالات زمانه آپ کے دور کا بڑا فتنہ دین الہی تھا۔مغلیہ سلطنت کا بادشاہ اکبر تھا تو پیدائشی مسلمان لیکن حکمران بننے کے بعد اس کے طور اطوار بدل گئے۔مذہبی پستی تو عام تھی ، بادشاہ نے تو حد کر دی۔اس کے سامنے ایک ہی مقصد تھا کہ اپنی ہندو مسلم رعایا کو متحد کیا جائے اور ان میں بنیادی اختلاف مذہبی تھا۔چنانچہ اُس نے ان کے اشتراک سے دین الہی بنایا جس میں اسلامی عقائد کی دھجیاں اُڑادی گئی تھیں۔وہ تمام رسومات جن کو اسلام سختی سے منع کرتا ہے اس دین کا حصہ بن گئیں۔چنانچہ لکھا ہے کہ اس مذہب کے نتیجے میں سورج کی پرستش چار وقت لازمی قرار دی گئی۔اب پانی، درخت، گائے کا پوجنا جائز ، قشقہ لگانا، گلے میں زنار پہننامذہب کی علامت بن گیا۔داڑھی منڈانا غسل جنابت نہ کرنا، ختنہ نہ کرنا،