مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 173 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 173

173 الفرات بن السائب الفضل بن حرب البجلی متروک غیر محفوظ الفضل بن عبد اللہ بن مسعود یشکری لا یجرز احتجاج وغیرہ وغیرہ ۵- كفاية المفرطین: یہ شافیہ کی شرح ہے۔اس کا ایک نسخہ احمد آباد میں پیر محمد شاہ کے کتب خانہ میں موجود ہے۔دسویں صدی ہجری کے اس عظیم المرتب عالم اور محدث وفقیہ نے 986ھ میں اُجین اور سارنگ پور کے درمیان جام شہادت نوش کیا اور ان کے ساتھیوں اور خواہر زادہ شیخ نور محمد نے میت کو پٹن لاکران کے آبائی قبرستان میں سپردخاک کیا۔اے علاوه از بین صدیق حسن خان قنوجی نے انتخاف النبلاء میں بعض علماء کی روایت سے لکھا ہے کہ محمد بن طاہر صدیقی الاصل تھے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ شیخ عبدالقادر بن ابوبکر (1138ھ ) مفتی مکہ جو علامہ محمد بن طاہر کی اولاد میں سے تھے ان کے ایک شاگرد نے ان کی شان میں ایک قصیدہ کہا جس کے ایک شعر کا ترجمہ یہ ہے:۔تیرے اجداد کی لحد کو خدا ٹھنڈک دے وہ علم و فضیلت میں یکتا تھے یعنی محمد بن طاہر کہ بلا شبہ حضرت صدیق کے نسل سے تھے“۔ایک روایت کے مطابق آپ نے اپنے بارہ میں ہندی الاصل بھی لکھا ہے۔مجدد کو جو تائیدی نشان عطا ہوتے ہیں آپ نے اس سے بھی حصہ پایا۔چنانچہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ آپ کے ذکر میں فرماتے ہیں :- حضرت محمد طاہر گجراتی کا مباہلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غلام دستگیر قصوری کے ذکر پر فرمایا :- ”اس نے ایک ایسا ہی مباہلہ کیا تھا جس کی نظیر پہلے بھی اسلامی دنیا میں موجود ہے جس کا نے خود ہی اپنے رسالہ میں ذکر کیا ہے کہ ایک بزرگ محمد طاہر نام تھے کے زمانہ میں دو شخص پیدا ہوئے ایک نے مسیح کا دعویٰ کیا تھا اور ایک نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔جس پر مولوی محمد طاہر صاحب نے