مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 169
حالات زندگی 169 شیخ محمد بن طاہر علی پٹنی ، دسویں صدی ہجری کے دیارِ ہند کے بہت بڑے عالم، محدث لغوی، شیخ مبلغ اور مصنف تھے۔گجرات ( کاٹھیاواڑ) کے شہر نہر والا کے باشندے تھے، جو بعد کو پٹن کے نام سے موسوم ہوا اور اسی مناسبت سے یہ شیخ محمد بن طاہر پٹی کہلائے۔ان کا لقب جمال الدین بھی تھا اور مجد الدین بھی۔پیدائش شیخ مدوح 914ھ کو شہر پٹن میں پیدا ہوئے اور وہیں نشو ونما پائی۔ابتداء عمر ہی سے حصول علم میں مصروف ہو گئے اور سب سے پہلے قرآن مجید حفظ کیا۔ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچے تھے کہ اپنے علاقہ کے مختلف اساتذہ سے علم حاصل کرنے لگے، جن میں مثلا ہنہ، شیخ ناگوری، شیخ برہان الدین سمہوی اور مولا نا ید اللہ سوہی وغیرہ شامل ہیں۔کم و بیش پندرہ سال حصول علم میں مصروف رہے اور مختلف علوم و فنون میں اپنے اقران و معاصرین میں سبقت لے گئے۔تمیں سال کی عمر کو پہنچے تو 944ھ میں حرمین شریفین کا قصد کیا۔حج و زیارت سے بہرہ مند ہوئے اور ایک مدت تک وہاں مقیم رہے۔اس دوران انہوں نے حرمین شریفین کے مشاہیر اساتذہ سے بھی اخذ علم کیا۔جن میں شیخ ابوالحسن بکری شافعی، صاحب الصواعق الحرة شیخ شہاب الدین احمد بن حجر مصری ثم کی شیخ علی مدنی ، شیخ جارالله بن فہد کی بیخ عبداللہ عید روس، شیخ عبداللہ زبیدی، سید عبدالله عدنی، شیخ عبداللہ حضری اور شیخ برخودار سندھی شامل ہیں۔ان دنوں شیخ علی متقی بھی وہاں اقامت گزیں تھے۔شیخ محمد بن طاہر نے ان سے بھی اخذ علم کیا اور ان سے منسلک و ملازم رہ کر مستفید ومستفیض ہوئے۔اب انہوں نے فضل و علم میں کامل ومکمل ہو کر وہاں سے ہندوستان کو مراجعت فرمائی اور اپنے وطن پٹن کو اپنا مستقر ٹھہرایا جو اس زمانے میں علاقہ گجرات کا ایک نہایت اہم مقام تھا۔شیخ محمد بن طاہر علاقہ گجرات کی بوہرہ برادری سے تعلق رکھتے تھے جو برصغیر کی مال دار اور تجارت پیشه برادری تھی۔بوہرے دو جماعتوں میں منقسم تھے۔کچھ لوگ شیعہ اور اسماعیلیہ تھے جو مہدویہ کہلاتے تھے۔یہ لوگ اپنے آپ کو محمد المہدی بن عبد اللہ بن احمد بن محمد بن اسماعیل بن جعفر صادق کے