مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 170
170 پیرو بتاتے ہیں اور محمد بن عبد اللہ کو مہدی آخر الزمان مانتے ہیں۔کچھ لوگ جماعت اہل سنت سے تعلق رکھتے تھے۔شیخ محمد بن طاہر نے بوہروں کی اصلاح کا عزم کیا اور ان میں جو بدعات و رسوم پیدا ہوگئی تھیں ان کو ختم کرنے کی ٹھانی۔نیز اپنے علاقے میں تعلیم عام کرنے اور لوگوں کو جہالت کی تاریکی سے نکالنے کا تہیہ کیا۔انہوں نے ایک ایسی اصلاحی تحریک شروع کی جس کا بنیادی مقصد سنت رسول اللہ کی ترویج، احکام شریعت کی تنفیذ اور منکرات کا انسداد تھا۔النور السافر میں عبدالقادر حضرمی رقمطراز ہیں کہ شیخ محمد بن طاہر اپنے باپ کی طرف سے بہت سے مال و دولت کے وارث ہوئے تھے، وہ خود روشنائی بنانے کا کام کرتے تھے۔اس طرح علم وفضل کی فراوانی کے ساتھ ساتھ انہیں گجرات کی ایک مال دار شخصیت سمجھا جاتا تھا۔اپنا مال تعلیم و تبلیغ پر خرچ کرتے تھے۔ان کا معمول تھا کہ لڑکوں کے مدرسے کے معلم کے ذریعہ ذکی اور فہیم لڑکوں کو اپنے ہاں طلب کرتے۔اگر لڑ کا مالدار ہوتا تو اسے علم حاصل کرنے کی تاکید فرماتے۔اگر تنگدست ہوتا تو اس کے اور اس کے گھر والوں کے مصارف کا بوجھ خود برداشت کرتے اور اس کو تعلیم میں مشغول رہنے کی ترغیب دیتے۔اسی طرح غرباء و مساکین اور محققین میں بھی مال و دولت تقسیم کرتے اور ہر ایک کو ضرورت کے مطابق با قاعدہ وظیفہ دیتے۔اس طرح وہ کوشاں ہوتے کہ لوگ فکر معاش سے بے نیاز ہوکر اللہ کے دین کی خدمت کو اپنا مقصد حیات ٹھہرالیں۔شیخ محمد بن طاہر نے دل میں فیصلہ کر لیا تھا کہ جب تک ان کی قوم بدعات و منکرات کو ترک نہیں کر دیتی اور سنت پر عامل نہیں ہو جاتی وہ سر پر عمامہ نہیں باندھیں گے۔قریب تھا کہ ان تمام بدعات کا قطعی طور پر خاتمہ ہو جاتا جو بلاد گجرات میں مروج تھیں کہ مغل حکمران جلال الدین اکبر نے 980 ھ میں گجرات فتح کیا۔اکبر سے شیخ کی ملاقات ہوئی تو اس نے عمامہ نہ باندھنے کی وجہ دریافت کی۔انہوں نے وجہ بتائی تو اکبر نے کہا بدعات کا قلع قمع کرنا ، دین کی نصرت اور سنت کا نفاذ عمل میں لانا میرے فرائض میں ہے، اس کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔آپ ان امور کی پرواہ نہ کریں۔چنانچہ اکبر نے اپنے ہاتھوں سے ان کے سر پر عمامہ باندھا اور ساتھ ہی والی گجرات مرزا عزیز الدین کو جو اکبر کا رضاعی بھائی تھا، شیخ کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کا حکم دیا۔منقول ہے کہ اس نے اس سلسلہ میں شیخ کی پوری اعانت کی اور ممکن حد تک رسوم بدعات کے ازالے کی سعی کی۔لیکن جب مرزا عزیز الدین کو