مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 159 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 159

159 آپ کی کتب کا چرچا آپ کی زندگی میں ہی ہو چکا تھا علامہ شوکانی لکھتے ہیں :- (ترجمہ) یہاں تک کہ لفظ حافظ کا اطلاق آپ پر ہونے لگا اور اجماعی کلمہ بن گیا۔دور دراز سے طلباء آپ کے پاس سفر کر کے آتے آپ کی مؤلفات آپ کی زندگی میں مختلف بلاد میں پھیل گئیں اور بادشاہوں نے ایک علاقے سے دوسرے علاقوں میں آپ کی کتب کے متعلق خط و کتابت کی۔قلع پھر کہتے ہیں:۔(ترجمہ) آپ کی تصانیف بادشاہوں نے اپنے علماء کے طلب کرنے پر انہیں تحفہ دیں یہاں تک کہ ایک کتاب 833ھ میں شاہ رُخ بن تیمور جو مشرقی بادشاہ تھا تک پہنچی جو اُس نے سلطان الاشرف سے ہدیہ کے طور پر پائی۔ان میں سے ایک فتح الباری ہے۔11 آپ کی گرانمایہ تصانیف کا ذکر شاہ عبدالعزیز یوں کرتے ہیں :- ابن حجر کی تصانیف ڈیڑھ سو سے زائد ہیں اور جلال الدین سیوطی کی تصانیف سے بہتر اور محکم تر ہیں کیونکہ جلال الدین سیوطی کی تصانیف اگر چہ تعداد میں زیادہ ہیں لیکن ابن حجر کی تصانیف اکثر بڑی ضخیم ہیں اور ان میں نئے نئے مضامین اور معلومات آفریں فوائد موجود ہیں۔اس کے برعکس جلال الدین سیوطی کی تصنیفات میں یہ بات نہیں ہے۔چنانچہ تبحر عالم پر یہ بات بخوبی روشن ہے نیز حافظ ابن حجر کا اتقان و انضباط علوم بھی جلال الدین سیوطی کے علم سے بڑھا ہوا ہے۔گو جلال الدین عبور و اطلاع میں ان سے فی الجملہ زیادہ ہیں۔۱۲ آٹھوی صدی کے دوسرے مجددین میں حافظ زین الدین عراقی ، صالح بن عمر ارسلان قاضی بلقینی اور علامہ ناصرالدین شاذلی اور ابن قیم شامل ہیں۔