مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 156 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 156

156 نظیر دیکھی اور نہ خود آپ نے اپنا مثیل دیکھا۔آپ سنت رسول پر سختی سے کاربند تھے۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ عہدہ کی خواہش نہ کر ولیکن جب ملے تو پھر اس کا حق ادا کرو۔چنانچہ بارہا آپ کو قاضی کا عہدہ پیش کیا گیا مگر آپ نے قبول نہ کیا۔لیکن جب اصرار حد سے بڑھ گیا تو قبول کر لیا اور جب تک رہے لوگوں کو انصاف مہیا کرتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ حکمرانوں کی آنکھ میں کھٹکتے تھے۔آپ کو حکام نے پانچ مرتبہ اس عہدہ سے ہٹایا لیکن جب دوبارہ عوام کا اصرار بڑھ جاتا تو پھر مجبور عہدے پر واپس لایا جا تا۔آپ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔آپ صرف انصاف کے تقاضے پورے کرنا چاہتے تھے۔ہیں:۔آپ کے متعلق لکھا ہے :- ( ترجمہ ) آپ کے قاضی رہنے کا کل عرصہ اکیس سال ہے۔آپ میں اس عہدے کے دوران بہت زہد آ گیا تھا۔اور آپ پر اکثر مصائب اسی کے باعث آئے ہیں۔آپ حدیث کے زبر دست عالم تھے۔علامہ جلال الدین سیوطی آپ کے متعلق کہتے ہیں :- انتهت اليه الرحلة والرئاسية فى الحديث في الدنيا بامر ها فلم يكن في عصره حافظ سواہ۔۔( ترجمہ ) حدیث کیلئے سفر کرنا اور حدیث کی ریاست آپ پر ختم ہے۔آپ کے عہد میں آپ کے سوا کوئی حافظ حدیث نہ تھا۔آپ ایک اصلاحی شاعر بھی تھے اور آپ کے اشعار میں عشق رسول کا پہلو نمایاں ہے۔فرماتے ولو ان غدا لی لوجهك اسلموا اگر تیرے چہرے کی خاطر ایمان لانا ہوتا تو مجھے لوجدت اني في المحبة اسلم اُمید ہے کہ میں تیری محبت میں فرمانبردار ہوتا۔محبت كيف السبيل لكتم اسرار الهوى کے رازوں کو چھپانے کا کیا طریق ہو کہ میرے ولسان دمعي بالزام يترجم ع آنسوؤں کی زبان میری محبت کی ترجمان ہے۔اسی طرح فرماتے ہیں :- ثم الصلوة و على النبي فانه پھر نبی ﷺ پر درود ہو کہ آپ سے ہی ذکر جمیل يبدى به الذكر الجميل يختم 스 کا آغاز ہوتا ہے اور آپ پر ہی اختتام ہوتا ہے۔