مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 141
141 فلسفہ کے رڈ کیلئے آپ سے پہلے ابوبکر باقلانی اور امام غزالی جیسی ہستیاں ہو کر گزری تھیں۔آپ نے بھی اس فلسفے کو ر ڈ کیا جو الہیات کے متعلق ہے۔فرماتے ہیں:۔(ترجمہ) فلسفہ سے اشتغال کرنے والے فنِ طبیعات میں غور وفکر اور تفصیل سے کام لیتے ہیں اور ان کا امتیاز نظر آتا ہے لیکن الہیات میں وہ جاہل محض اور حق سے بالکل نا آشنا معلوم ہوتے ہیں۔اس سلسلہ میں ارسطو سے جو منقول ہے وہ بہت تھوڑا ہے اور غلطیاں اس میں بہت زیادہ ہیں۔۱۸ لوگ ارسطو کی اندھی تقلید کر رہے تھے۔آپ نے فرمایا: - "ارسطو کو کبھی اس سرزمین کی طرف سفر کرنے کا اتفاق نہیں ہوا جو انبیاء کی بعثت سے مشرف ہوئی نہ اس کے پاس انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کا کوئی حصہ تھا۔اس کے پاس ستارہ پرستی کے مذہب کا کچھ حصہ تھا اور اس نے ان قیاسی تعلیمات کی بنیاد ڈالی اور وہ ایک ایسا قانون بن گیا جس پر اس کے پیرو آنکھ بند کر کے چلتے ہیں۔19 اسی طرح منطق اور انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات میں موازنہ کرتے ہوئے فرمایا : - اتنی بات مسلّم ہے کہ لکڑی اور سیسہ اور پتھر کو تولنے کیلئے جو تر از و بنائے گئے ہیں ان پر سونے چاندی کو نہیں تولا جاسکتا۔ثبوت کا معاملہ اور انبیاء علیہم السلام جن حقائق کو لے کر آئے ہیں وہ علوم میں اس سے کہیں زیادہ نازک اور رفیع ہیں جتنا کہ سونا مالیات میں۔تمہاری منطق اس کیلئے کوئی میزان نہیں بن سکتی۔اس فلسفہ اور منطق کے مقابل پر قرآن کی فضیلت یوں بیان کرتے ہیں :- اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اتنے عقلی دلائل بیان فرمائے ہیں جن کی اس علم میں ضرورت ہے اور یہ فلاسفہ اور متکلمین ان کا پورا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔یہ جن دلائل و نتائج کو پیش کرتے ہیں قرآن مجید نے ان کا خلاصہ بہترین طریقہ پر پیش کر دیا ہے۔۲۱ علوم شریعہ کا احیاء لوگ قرآن وسنت وغیرہ اسلامی اصول سے برگشتہ ہورہے تھے اور یونانی فلسفے کی طرف بھاگے جارہے تھے۔چنانچہ ایک مجدد کا فرض تھا کہ ان کو واپس انہی علوم کی طرف لائے۔ابن تیمیہ نے یہ کام سرانجام دیا۔