مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 126
126 مسلمانوں کی اکثریت فسق و فجور میں مبتلا تھی۔اس لیے خدا نے ان کو عبرت سکھانے کیلئے کفاران پر مسلط کر دیے جنہوں نے ان کی آبادیوں کو ویرانوں میں بدل دیا۔آپ کے عہد میں مسلمانوں کا اکثر حصہ کفر و بت پرستی کا دلدادہ تھا۔برصغیر میں ہر طرف ہندو چھائے ہوئے تھے اور معاشرہ ان کی بد رسومات کا اسیر ہو رہا تھا۔چھوت چھات کا رواج تھا اور ہندوؤں کی دیدہ دلیری کہ وہ مسلمانوں کے ہندوستان میں قدم رکھنے کو نا پاک خیال کرتے تھے۔یہ وہ حالات تھے جن میں خدا کی طرف سے خواجہ صاحب تجدید دین کیلئے کھڑے کیے گئے۔آپ نے ظلمت کدوں میں کس طرح نور ہدایت پہنچایا اس کا تذکرہ آئندہ چند صفحات میں کیا جائے گا۔لیکن گزشتہ طریق کے مطابق تجدیدی کارناموں سے قبل آپ کی عظمت، کردار اور تعلیم کا اجمالی ذکر بھی ضروری ہے۔کیونکہ انسان کا عملی نمونہ سب سے بڑی تبلیغ ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کون سی تعلیم تھی جسے آپ دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے کہ لوگ جوق در جوق آپ کے حلقہ ارادت میں آتے جاتے اور قرب الہی کے مقامات طے کرتے جاتے۔دیدار رسول اور بعثت آپ باون سال تک فقیرانہ زندگی بسر کرتے رہے۔اسی دوران آپ نے سفر حج اور زیارت روضتہ النبی کا ارادہ کیا اور عازم سفر ہوئے۔راستے میں ہی تھے کہ خواب میں حضرت نبی کریم ہے کے دیدار سے مشرف ہوئے۔حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا معین الدین آمیں تجھے حج اور زیارت سے بھی زیادہ ایک ضروری کام بتاؤں۔واپس لوٹ جا اور صحیح معنوں میں معین الدین بن جا اور تبلیغ اسلام کیلئے ہندوستان کا رُخ کر۔جب آنکھ کھلی تو تعمیل حکم میں یہ بے نوا فقیر فورا اپنی گڈری سنبھال، پا پیادہ ہندوستان کی طرف روانہ ہو گیا۔ہندوستان ایک ایسا ملک جو آپ کیلئے اجنبی مطلق تھا اور مستزاد یہ کہ بت پرستی سے گھرا ہوا۔مگر یہ فقیر حق آشنا تن تنہا ہندوستان کو فتح کرنے چلا۔عشق سرمدی کا یہ دیوانہ ہر مشکل کو طے کر کے پہلے لاہور پھر دہلی اور بالآخر اجمیر پہنچا۔ھے شخصیت و عظمت کردار آپ کے مرشد حضرت عثمان ہارونی نے آپ کے متعلق فرمایا: -