مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 116
116 آپ کے ہمسائے میں ایک جو باز رہتا تھا۔ایک دن کھیلتے ہوئے وہ سارا مال ہار گیا۔یہاں تک کہ اس نے ہاتھ کٹا دینے پر بازی کھیلی اور وہ بھی ہار گیا۔اب شرکاء مصر تھے کہ یا تو ہاتھ کٹاؤ یا ہار مانو اور یہ تیار نہ ہوتا تھا۔اتنے میں شیخ اپنی چھت پر آئے اور اسے کہا کہ یہ سجادہ لے لو اور بازی کھیلو۔وہ کھیلا اور اس نے سارا مال واپس جیت لیا اور یہ کرامت دیکھ کر آپ کے ہاتھ پر تائب ہو گیا اور سارا مال خدا کی راہ میں خرچ کر دیا۔اس کی روزانہ کی آمدنی دوسود بنا تھی۔اسے اگر اس واقعہ میں کچھ مبالغہ بھی ہو تو تب بھی اتنا اندازہ تو ہوتا ہے کہ آپ ہر قسم کے لوگوں کو ہدایت دیا کرتے تھے۔اظہار علی الحق آپ خدا کی طرف سے تجدید کے منصب پر فائز تھے۔اس لیے آپ جہاں غلطی پاتے اس کی اصلاح کیلئے کوشش کرتے اور کس کی پرواہ نہ کر تے کہ آپ کے اس فعل سے حکمران ناراض ہو جائیں یا آپ کو نقصان پہنچائیں۔آپ حکمرانوں پر کڑی تنقید کیا کرتے تھے۔چنانچہ خلیفہ المعتقفی لامر اللہ نے ابوالوفاء یحیی جو ابن المرحم الظالم کہلاتا تھا کو قاضی نامزد کر دیا۔شیخ نے بھری مجلس کے سامنے اس منبر پر اس کی مذمت کی اور فرمایا " وليت على المسلمين اظلم الظالمین ماجوابک غدا عند رب العالمين ارحم الراحمین۔تم نے مسلمانوں پر ایسے شخص کو حاکم بنایا ہے جوسب سے بڑا ظالم ہے۔کل قیامت کے روز رب العالمین کو کیا جواب دو گے جوارحم الراحمین ہے۔عمادالدین ابن کثیر اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں :- كان يامر المعروف وينهى عن المنكر للخلفاء والوزراء والسلاطين والقضاء والخاصة والعامة يصدعهم بذالك على رؤس الاشهاد و رؤس المنابر و في المحافل و ينكر على من يولى الظلمة ولا تأخذ في الله لومة لائم“۔( ترجمہ ) آپ معروف باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے تمام خلفاء اور وزراء اور سلاطین اور قضاۃ ہر خاص و عام کو منع کرتے تھے۔اور آپ علی الاعلان یہ باتیں منبروں پر