مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 117
117 اور محفلوں میں کہا کرتے تھے۔جو کسی ظالم کو حاکم بناتا اس پر اعتراض کرتے اور خدا کے معاملہ میں آپ کو کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہ ہوتی تھی۔ایک اور جگہ امراء اور علماء سے جو راہ راست سے ہٹ چکے تھے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:- ”اے علم و عمل میں خیانت کرنے والے تم کو ان سے کیا نسبت۔اے اللہ اور اس کے رسول کے دشمنو، اے بندگان خدا کے ڈاکوو! تم کھلے ظلم اور کھلے نفاق میں ہو۔یہ نفاق کب تک رہے گا۔اے عالمو ! اے زاہدو! شاہان اور سلاطین کیلئے کب تک منافق بنے رہو گے کہ ان سے دنیا کا زر و مال اور اس کی شہوات ولذات لیتے رہو۔تم اور اکثر بادشاہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کے مال اور اس کے بندوں کے متعلق ظالم اور خائن بنے ہوئے ہیں۔بارالہ ، منافقوں کی شوکت توڑ دے اور ان کو ذلیل فرما، ان کو تو بہ کی توفیق دے اور ظالموں کا قلع قمع فرما اور زمین کو ان سے پاک کر دے یا ان کی اصلاح فرما دے۔ہے آپ کے دل میں عشق اسلام اور عشق رسول کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔چنانچہ آپ اسلام کی خستہ حالی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔” جناب رسول اللہ کے دین کی دیوار میں پے در پے گر رہی ہیں اور اس کی بنیاد بکھری جاتی ہے۔اے باشندگانِ زمین آؤ جو گر گیا ہے اس کو مضبوط کر دیں اور جوڑھے ( گر ) گیا ہے اس کو درست کر دیں۔یہ چیز ایک سے پوری نہیں ہوتی۔سب ہی کو مل کر کام کرنا چاہیے۔اے سورج ، اے چاند اور اے دن تم سب آؤ۔ہے پس آپ نے خشک ملائیت کے خلاف جہاد کیا۔آپ نرے صوفی ہی نہیں تھے بلکہ بالعمل ولی اللہ تھے۔شیخ نے صوفی مبلغ کی حیثیت سے چالیس سال تک کام کیا اور عملاً ثابت کر دیا کہ تصوف و طریقت پر محض اہل خلوت کا ہی قبضہ اور اجارہ داری نہیں۔آپ پُر اسرار رمزیت کے خلاف تھے۔آپ تصوف کو شریعت کے ہم آہنگ اور کھلی شاہراہ کی طرح دیکھنا چاہتے تھے اور شریعت کے خلاف تصوف کے رڈ میں فرماتے ہیں:- اگر حدود الہی میں سے (احکام شرعی ) کوئی حد ٹوٹتی ہو تو سمجھ لو کہ تم فتنہ میں پڑ گئے ہو