مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 111 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 111

111 بار بار یہی کہتا ہے۔امیر نے کہا اچھا اس کا کپڑا دیکھو تو سہی۔جب تلاشی لی گئی تو واقعی چالیس اشرفیاں (مہریں ) برآمد ہوئیں۔وہ حیران ہوئے کہ یہ عجیب آدمی ہے، ہم نے ایسا آدمی کبھی نہیں دیکھا۔امیر نے آپ سے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ تو نے اس طرح پر اپنے مال کا پتہ بتا دیا؟ آپ نے فرمایا کہ میں خدا کے دین کی تلاش میں جاتا ہوں، روانگی پر والدہ صاحبہ نے نصیحت فرمائی تھی کہ جھوٹ کبھی نہ بولنا۔یہ پہلا امتحان تھا میں جھوٹ کیوں بولتا۔یہ سن کر امیر قزاقان روپڑا اور کہا کہ آہ میں نے ایک بار بھی خدا تعالیٰ کا حکم نہ مانا۔چوروں سے مخاطب ہو کر کہا اس کلمہ اور اس شخص کی استقامت نے میرا تو کام تمام کر دیا ہے۔اب میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا اور تو بہ کرتا ہوں۔اس کے کہنے کے ساتھ ہی باقی چوروں نے بھی تو بہ کر لی میں ”چوروں قطب بنایا ای اس واقعہ کو سمجھتا ہوں۔الغرض سید عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ پہلے بیعت کرنے والے چور ہی تھے۔وہ خدا کے مقرب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا :- ”دیکھو ابوالحسن خرقانی، بایزید بسطامی یا شیخ عبدالقادر جیلانی وغیرہ یہ سب خدا تعالیٰ کے مقرب تھے اور انہوں نے بھی شریعت ہی کی پابندی سے یہ درجہ پایا تھا نہ کہ کوئی نئی شریعت بنا کر۔جیسا کہ آج کل کے گدی نشین کرتے ہیں۔یہی نماز تھی ، یہی روزے تھے مگر انہوں نے اس کی حقیقت اور اصل غرض کو سمجھا ہوا تھا۔بات یہ تھی کہ انہوں نے اعمال کو بیگار کے طور پر پورا نہ کیا بلکہ صدق اور وفا کے رنگ میں ادا کرتے تھے۔سوخدا نے ان کے صدق وصفا کو ضائع نہ کیا۔خدا کسی کا احسان اپنے اوپر نہیں رکھتا۔وہ ایک پیسہ کے بدلے میں جب تک ہزار نہ دے تب تک نہیں چھوڑتا۔پس جس کسی انسان میں وہ برکات اور نشانات نہیں ہیں ( البدر میں ہے ” جب انسان نیکی کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس سے کوئی فائدہ نظر نہیں آتا اور اس کو اس کے پھل عطا نہیں ہوتے تو وہ جھوٹا ہے‘) (البدر جلد 2 صفحہ 20،9 مارچ 1903ء) اور وہ خدا کی محبت کا دعوی کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔خدا پر الزام نہیں لگا تا بلکہ اپنا گند ظاہر کرتا ہے۔خدا کی جناب میں بخل ہر گز نہیں۔پس کوشش کرو کہ اس کی رضا کے موافق