مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 110
110 آپ کی سیرت بزبان حضرت مسیح پاک آپ کا نفس بڑا مطہر تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:- میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ حضرت سید عبدالقادر جیلانی ” جو بڑے اکابر میں سے ہوئے ہیں ان کا نفس بڑا مطہر تھا۔ایک بار انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ میرا دل دنیا سے برداشتہ ہے میں چاہتا ہوں کہ کوئی پیشوا تلاش کروں جو مجھے سکینت اور اطمینان کی را ہیں دکھلائے۔والدہ نے جب دیکھا کہ یہ اب ہمارے کام کا نہیں رہا تو اس کی بات کو مان لیا اور کہا کہ اچھا میں تجھے رخصت کرتی ہوں۔یہ کہہ کر اندر گئی اور اتنی اشرفیاں جو اس نے جمع کی ہوئی تھیں اُٹھا لائی اور کہا کہ ان اشرفیوں مہروں) سے حصہ شرعی کے موافق چالیس اشرفیاں تیری ہیں اور چالیس تیرے بڑے بھائی کی۔اس لیے چالیس مہریں تجھے بحصہ رسدی دیتی ہوں۔یہ کہہ کر وہ چالیس مہریں ان کی بغل کے نیچے پیرا ہن میں سی دیں اور کہا کہ امن کی جگہ پہنچ کر نکال لینا اور عند الضرورت اپنے صرف میں لانا۔سید عبدالقادر صاحب نے والدہ سے عرض کی کہ مجھے کوئی نصیحت فرماویں۔انہوں نے کہا بیٹا جھوٹ کبھی نہ بولنا اس سے بڑی برکت ہوگی۔اتنا سن کر آپ رخصت ہوئے۔اتفاق ایسا ہوا کہ جس جنگل سے ہو کر آپ گزرے اس میں چند راہزن قزاق رہتے تھے جو مسافروں کولوٹ لیا کرتے تھے۔دور سے سید عبدالقادر صاحب پر بھی ان کی نظر پڑی۔قریب آئے تو انہوں نے کمبل پوش فقیر دیکھا۔ایک نے ہنسی سے دریافت کیا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ آپ ابھی اپنی والدہ کی تازہ نصیحت سن کر آئے تھے کہ جھوٹ نہ بولنا۔فی الفور جواب دیا کہ ہاں چالیس اشرفیاں (مہریں ) میری بغل کے نیچے ہیں جو میری والدہ صاحبہ نے کیسہ کی طرح سی دی ہیں۔اس قزاق نے سمجھا کہ یہ ٹھٹھا کرتا ہے۔دوسرے قزاق نے جب پوچھا تو اس کو بھی یہی جواب دیا۔الغرض ہر ایک چور کو یہی جواب دیا۔وہ ان کو اپنے امیر قزاقان کے پاس لے گئے کہ