مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 99 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 99

99 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی بہت ساری کتب میں اس عظیم بزرگ کا ذکر فرمایا ہے۔اسی طرح حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے بھی مختلف اوقات میں ذکر فرمایا ہے۔ان ہر دو بزرگ ہستیوں کے انمول موتی حضرت سید عبدالقادر جیلانی کی نظر کرتے ہیں۔ولادت و نام و نسب آپ کا اسم گرامی عبد القادر تھا۔آپ 470ھ بمطابق 1077ء کو بمقام جیل جو واسط اور بغداد کے درمیان ایک گاؤں ہے، میں پیدا ہوئے۔بعض ماخذوں میں آپ کو بحیرہ خزر کے جنوبی صوبے جیلان کے ایک مقام نیف“ کا رہنے والا بتایا گیا ہے۔والد کا نام ابو صالح اور والدہ کا نام ام الخیر امۃ الجبار فاطمہ تھا۔آپ کی کنیت ابو محمد اور القاب محی الدین، محبوب سبحانی، غوث اعظم ، سلطان الاولیاء وغیرہ ہیں۔نسب نامہ یوں ہے۔محمد الدین ابو محمد عبد القادر بن ابو صالح بن جنگ دوست موسیٰ بن ابی عبداللہ بن یحیی الزائد بن محمد بن واحد بن موسیٰ بن عبد اللہ بن موسیٰ الجون بن عبد اللہ بن حسن المثنے بن امیر المومنین ابو محمد الحسن بن امیر المومنین علی المرتضی رضوان اللہ علیہم اجمعین۔اسی طرح آپ والدہ کی طرف سے بھی حسینی ہیں۔ہے حالات زمانہ پانچویں صدی ہجری تک عالم اسلام میں سیاسی و فکری اضمحلال اپنے عروج کو پہنچ چکا تھا۔عہد اموی میں جہالت کی رجعت قبقری کے ادوار میں خلق قرآن ، اعتزال میں اسلام کے ملحدانہ فلسفہ اور باطنیت کے فتنوں نے اہل اسلام کے خواص میں تشکیک والحاد اور عوام میں بے راہ روی کے بیج بو دیے تھے۔یہ نزاع انتہائی مشکل اختیار کر گیا تھا کہ آیا انسانوں کو ایسا مسلک لادینی اختیار کر لینا چاہیے کہ وہ رسماً ورواجاً مسلمان رہے اور بس۔یا ایسا دین عقل پرست اختیار کرے جو اہل دین کے مسلمہ عقائد سے متصادم ہو اور علم کی نسبت یہ گمان تھا کہ وہ مردہ علم ہے جو مردہ لوگوں نے اور وں تک پہنچایا ہے۔ایک تیسرا طبقہ ان صوفیا کا تھا جنہوں نے اپنی شریعت بنا رکھی تھی۔اور وہ نماز ، روزہ سے برگشتہ ہور ہے تھے۔اور ایک مجدد کے سامنے سوال یہ تھا کہ اس تصوف کو شریعت اسلامیہ کا ہم آہنگ کیسے کیا جائے۔