مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 92 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 92

92 مستنصر نهایت علم دوست اور قدردان ہونے کی بنا پر امام صاحب کا حد درجہ احترام کرتا تھا۔فرقہ باطنیہ نے جب زور پکڑا تو اس نے امام صاحب سے ان کے رڈ میں کتاب لکھنے کی درخواست کی۔اس کتاب کا نام بھی انہوں نے ”مستنصر “ رکھا۔علمی لحاظ سے آپ کی جلالت کا یہ عالم تھا کہ ان کے درس میں تین سو مدرسین اور امراء، رؤسا بالتزام حاضر ہوتے۔علمی وعظ بھی کرتے اور ان وعظوں کو آپ کے ایک شاگرد صاعد نے دو ضخیم جلدوں میں جمع کیا اور اس کا نام ”مجالس غزالی مشہور ہوا۔امام صاحب جس ماحول میں رہ رہے تھے اس کا تقاضا تو یہی تھا کہ رائج الوقت مسلک پر کار بند رہا جائے لیکن امام غزالی میں اجتہاد کا جذبہ بہت تھا۔چاہتے تھے کہ دوسروں کے مسائل پر بھی نگاہ ڈالی جائے۔اس زمانے میں بغداد واحد شہر تھا جو تمام مذاہب کا دنگل سمجھا جاتا تھا۔امام صاحب خود بغداد گئے اور بڑے قریب سے سارے مذاہب کو پر کھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تقلید کی بندش ٹوٹ گئی۔رفتہ رفتہ یقین کسی مذہب کی تاویلات پر نہ رہا۔اس وقت چار فرقے مشہور تھے۔متکلمین، باطنیہ، فلاسفہ اور صوفیہ۔ان سب فرقوں کے علوم و عقائد کی تحقیقات شروع کیں، قدما کی ساری تصانیف پڑھ ڈالیں لیکن تسلی نہ ہوئی۔488ھ میں بغداد میں بڑی صوفیانہ حالت میں نکلے اور دمشق پہنچ کر مجاہدہ و ریاضت شروع کر دی۔مراقبہ وغیرہ کے ساتھ ساتھ جامع اموی میں درس بھی دیتے رہے۔دو برس بعد بیت المقدس زیارت کیلئے پہنچے۔زیارت کے بعد حج کی نیت سے مصر و اسکندریہ سے ہوتے ہوئے مکہ پہنچے۔490ھ میں مقام خلیل پہنچے تو عہد کیا کہ کسی بادشاہ کے دربار میں نہ جاؤں گا، نہ ہی عطیہ قبول کروں گا، نہ ہی کسی مناظرے میں حصہ لوں گا۔چنانچہ مرتے دم تک اس عہد پر قائم رہے۔ابن الا شیر نے لکھا ہے کہ امام صاحب نے احیاء العلوم اسی سفر کے دوران تصنیف کی تھی۔جب آپ نے تحقیق کا ذوق پورا کر لیا تو 499ھ میں امام صاحب نے سلجوقی علم دوست بادشاہ کے اصرار پر دوبارہ نیشا پور کے مدر سے نظامیہ میں پڑھانا شروع کر دیا۔فخر الملک 500ھ میں فوت ہو گیا تو امام صاحب نے دوبارہ گوشہ نشینی اختیار کر لی۔آپ کی اس عظیم شہرت نے کچھ حاسد بھی پیدا کیے۔کسی زمانہ میں امام صاحب نے ایک مسئلہ