مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 93 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 93

93 میں امام ابوحنیفہ پر تنقید کی تھی۔مخالفین نے اسے بنیاد بنا کر سنجر جو خود صاحب علم نہ تھا کے پاس شکایت کر دی اور امام صاحب پر زندیقیت کا فتویٰ لگا دیا گیا۔سنجر نے امام صاحب کو طلب کیا۔چونکہ امام صاحب عہد کر چکے تھے کہ کسی بادشاہ کے دربار میں نہ جائیں گے۔اس وجہ سے ایک خط بادشاہ کے نام لکھا۔اس سے بادشاہ بہت متاثر ہوا۔اس نے ایک دستہ روانہ کیا۔امام صاحب کو زبردستی دربار میں لے آیا۔وہاں پہنچنے پر آپ نے ایک زور دار تقریر کی۔بادشاہ بہت مرعوب ہوا اور آپ کو دوبارہ مسند تدریس کی پیشکش کر دی اور بھی دعوتیں آئیں لیکن امام صاحب نے معذرت کر دی اور گوشہ عافیت میں جاگزیں ہوئے۔آپ کو حدیث کی تکمیل کا چونکہ موقع ابھی تک نہیں مل سکا تھا اس لیے آپ کے دل میں حدیث پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔اتفاقاً ان دنوں مشہور محدث حافظ عمر بن ابی الحسن طوس آئے ہوئے تھے۔امام صاحب نے انہیں اپنے ہاں مہمان ٹھہر الیا اور صحیح بخاری و مسلم کی سند لی۔امام غزالی کی عمر صرف 55 برس تھی۔تقریباً دس برس کے تھے کہ تصنیف و تالیف کا شغل اختیار کر لیا۔دس گیارہ برس صحرا نوردی اور باد یہ پیمائی میں گزرے۔درس و تدریس ہمیشہ جاری رکھی۔ان کے تلامذہ کی تعداد کسی وقت بھی ڈیڑھ سو سے کم نہیں رہی۔فقر و تصوف کے مشغلے اس سے جدا۔دور دور سے فتاوی آتے ان کا جواب الگ لکھتے۔اس کے باوجود آپ نے سینکڑوں کتابیں لکھیں۔فقہ میں آپ کی مشہور کتا بیں بسیط اور خاصتہ الرسائل۔اصول فقہ میں تحصیل الماخذ ، شفاء العليل ، مفصل الخلاف في اصول القیاس۔منطق میں معیار العلیم، محکم النظر۔میزان العمل۔فلسفہ میں مقاصد الفلاسفہ علم کلام میں تہامہ الفلاسفہ۔منقذ ، الجام التوام تصوف و اخلاق میں احیاء العلوم، کیمیائے سعادت، مشکوۃ الانوار، منہاج العابدین بہت مشہور ہیں۔امام کی کچھ تصانیف صرف یورپ میں موجود ہیں اور کچھ کا ترجمہ عالم اسلام کی زبانوں میں ہو چکا ہے۔علامہ نووی نے بستان المحدثین میں ایک شخص کا بیان نقل کیا ہے کہ امام صاحب کی تصنیفات ان کی عمر کے لحاظ سے روزانہ 16 صفحے کے حساب سے لکھی گئی جو اتنے مشغلوں کے باوجود بالتزام حیرت انگیز ہیں۔یاقوت التاویل تفسیر آپ کی طرف منسوب ہے جس کی ضخامت 40 جلدیں بیان کی جاتی ہے۔لیکن علامہ شبلی کے مطابق فن تفسیر کو آپ نے ہاتھ نہیں لگایا۔یاقوت التاویل ایک فرضی نام ہے۔امام زین الدین عراقی " امام نووی، شیخ ابو محمد وغیرہ کا اتفاق ہے کہ سب سے زیادہ مشہور اور مفید تصنیف