مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 86
86 لکھتے ہیں :- و نزد مائتہ چہارم حاکم بامر الله بود و وی هر چه فساد و خرابی کرد ظاہر است بلکه در شر بدتر و بیشتر از حجاج بود - مردم را حکم کرد که هرگاه نام او در خطبه ذکر کنند سجده نمایند و پیش از وی احدی بسجده نز و ذکر نام خود نکرده و افاعیل و مفاعیل حاکم مذکور مشهور و معروف است و نیز نزد رأس مائت درسته سبع دار بعمائه رکن یمانی کعبه و جدار قبر مطهر و مرقد بنور نبوی صلحم وقبه کبیر که بر حجرہ بیت المقدس بود دفعته ساقط شده و این را از عجائب و غرائب اتفاقات شمردند و منجمله مجد ڈین ایں مائۃ قاضی ابوبکر باقلانی و شیخ ابواحمد الفرینی انڈ۔سے ( ترجمہ ) : چوتھی صدی کے نزدیک حاکم بامر اللہ (بغداد کا ) حکمران تھا اور اس نے ہر طرف فتنہ وفساد بر پا کر رکھا تھا۔بلکہ شرارتوں میں حجاج سے بدتر اور پیشتر تھا۔رعایا کو حکم دیا کہ جہاں بھی خطبہ میں اس کا نام آئے اسے سجدہ کیا جائے اور اس سے پہلے کسی نے اپنے نام کے ساتھ سجدہ کا حکم نہ دیا تھا اور اس بادشاہ کی اور بھی خر: عبیلات مشہور و معروف ہیں اور صدی کے سر کے نزدیک یعنی 404ھ میں رکن یمانی اور روضہ نبوی کی دیوار اور قبہ کبیر جو کہ بیت المقدس پر تھا اچانک گر گئے اور اسے بڑا عجیب و غریب اتفاق شمار کیا گیا اور اس صدی کے مجد دین میں قاضی ابوبکر باقلانی اور شیخ ابواحد الفرانی ہیں۔وفات مورخہ 23 ذیقعد 403ھ میں فوت ہوئے۔ہے تجدیدی کام آپ اشاعرہ میں بلند مقام رکھتے ہیں اور آپ نے ابوالحسن اشعری کے کام کو ہی آگے بڑھایا۔آپ نے امام اشعری کی بحثوں کو مرتب کیا۔توحید کے دلائل عقلیہ بیان کئے۔آپ علم کلام کے امام تسلیم کیے جاتے ہیں۔روایت حدیث میں ثقہ تسلیم کئے جاتے ہیں۔قاضی عیاض نے انہیں سیف السنۃ اور لسان الامۃ کا خطاب دیا۔آپ اہل بصرہ کے امام وقت اور مالکیہ کے سرخیل کہلاتے ہیں۔آپ نے سنت کی خوب نصرت فرمائی اور معتزلہ کا قلع قمع کیا۔ایک دن دارقطنی نے باقلانی کا منہ چوم کر کہا