مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 85 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 85

85 ولادت و تعارف آپ کا نام محمد بن الطبیب بن جعفر تھا۔بصرہ میں پیدا ہوئے۔لیکن بغداد میں سکونت اختیار کی۔آپ کا سن پیدائش 338ھ ہے۔آپ چوتھی صدی کے مجدد ہیں۔علمی فضائل کے ساتھ ساتھ زہد و تقویٰ، ریاضت و عبادت میں بھی مشہور ہیں۔سفر و حضر میں ہمیشہ رات کے وقت ہمیں رکعت نفل ادا کیا کرتے تھے اور اس کے بعد قوت حافظہ کی مدد سے پینتیس ورق روزانہ لکھا کرتے تھے۔آپ نے اساتذہ فن سے حدیث و علم کلام حاصل کیا اور پھر متبحر عالم بنے۔بغداد کے ” جامع المصور میں درس دیا کرتے تھے اور آپ کا حلقہ بہت وسیع تھا۔امام ابن تیمیہ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں:۔یہ اشاعرہ میں افضل المتکلمین تھے۔ان میں ایسا شخص نہ تو کوئی پہلے ہوا، نہ بعد میں“۔آپ نے ابوبکر بن مالک، التقطیعی ، ابومحمد، ابواحمد الحسین بن علی النیشا پوری سے حدیث سنی اور علم النظر ابو عبد اللہ بن مجاہد الطائی سے سیکھا۔ہے اکثر احباب انہیں مالکی مانتے ہیں۔لیکن امام ابن کثیر نے ایک جگہ انہیں شافعی اور ایک جگہ خود تعجب کرتے ہوئے انہیں حنبلی بھی لکھا ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کسی ایک مسلک کی کورانہ تقلید کے قائل نہ تھے بلکہ ایک مجدد اور مجتہد تھے۔جو چیز جہاں صحیح لگی اسے اختیار کرنے میں تامل نہیں کرتے تھے۔اُس زمانے کے مسائل آپ کے وقت میں مسلمان حکمرانوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔وہ تمام اسلامی روایات کو فراموش کر چکے تھے۔قرآنی تعلیمات زینت طاق نسیاں ہو چکی تھیں۔طاقت کے نشے میں چور بادشاہ اپنے آپ کو خدا خیال کرنے لگے تھے۔چنانچہ حاکم بامر اللہ نے بادشاہ کو سجدۂ تعظیمی کرنے کا حکم دیا۔مسجد میں جو ذکر اللہ کیلئے مخصوص ہیں اور خدا کا ارشاد ہے فلا تدعوا مع الله احدًا۔وہاں بادشاہوں کی شان میں مبالغہ آمیز قصائد پڑھے جاتے تھے۔ان کی شان بیان کی جاتی تھی اور مسلمانوں کی تربیت کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں تھی۔اسی زمانے کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے نواب صدیق حسن خانصاحب