مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 71 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 71

71 ہے۔ہوسکتا ہے کہ کسی نے یہ اقوال ان کی طرف منسوب کر دیے ہوں یا امام صاحب نے دو مسلک بیان کر کے بعد میں ایک کی نفی کی ہو یا بعد میں قدیم قول سے رجوع کرلیا ہو۔ہر دوا قوال کے نفی واثبات کے دلائل بیان کر کے توقف اختیار کر لیا ہو۔ایسا کرنا ان کی غایت درجہ کی دیانت اور ورع کی دلیل ہے۔گویا آپ طالب حق تھے اور تلاش حق میں جہاں آپ کو نئی روشنی ملتی اسے اختیار کر لیتے۔آپ نے علم اصول فقہ ایجاد کیا۔دنیا کے سامنے ایسا قانون گلی رکھ دیا کہ ادلہ شرعیہ کے مراتب کی معرفت آسان تر ہوگئی۔پس جس طرح دنیا یہ مانتی ہے کہ استخراج منطق کا اتنا بڑا کارنامہ ہے جس میں ارسطو کا کوئی حریف نہیں اس طرح دنیا کو یہ بھی ماننا چاہیے کہ شافعی رضی اللہ عنہ نے علم اصول فقہ ایجاد کر کے اسے رفعت و جلالت کی انتہاء تک پہنچادیا اور وہ جملہ مجتہدین سے ممتاز ہو گئے۔علوم اصول فقہ کیلئے آپ نے ایک کتاب الرسالہ لکھی۔تصنیفات آپ نے ایسا شاندار لٹر پر چھوڑا ہے جو آپ کے تجدیدی کارناموں کا سب سے بڑا ثبوت ہے جس کے ذریعے دوسری صدی سے لے کر اب تک مخلوق خدا استفادہ کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔یقیناً یہ ایک عظیم الشان خدمت ہے۔اصول تالیف آپ سب سے پہلے ان مبادی کا تذکرہ کرتے ہیں جو انہوں نے بسلسلہ استنباط وضع کیے ہوتے ہیں پھر مسائل مختلف فیہ کا تذکرہ ہوتا ہے پھر ان مسائل میں سنت رسول اور صحابہ کے اختلاف کو زیر بحث لاتے ہیں اور یہ سب کچھ بیان کرنے کے بعد جس رائے کو صحیح خیال کرتے ہیں اسے مرحج قرار دیتے ہیں۔تعصب آپ میں بالکل نہیں تھا۔آزادانہ تحقیق کرتے اگر بعد میں کوئی بات پہلے مسلک کے خلاف مل جاتی تو اپنے مسلک سے رجوع کر لیتے۔آپ فرماتے تھے ” میری ان کتابوں میں مخالف کتاب وسنت تم کوئی بات نہ پاؤ گے کیونکہ ایسی تمام باتوں سے میں رجوع کر چکا ہوں“۔ہے آپ نے اکہتر کتب قیام بغداد کے دوران لکھیں۔مصر میں دوبارہ ان کی کانٹ چھانٹ کی اور