مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 66
66 ایسے حالات میں امام شافعی نے خفی و مالکی مذہب کے اصول و فروع کو دیکھ کر اور ان کے تمام کلیات و جزئیات پر نظر کر کے ان باتوں کو جوان مذہبوں میں ناقص تھیں پورا کیا اور نئی طرز سے اصول و قواعد کو تر تیب دیا۔سب سے اوّل انہوں نے اصول فقہ کی ایک کتاب ترتیب دی۔یوں آپ اصول فقہ کے بانی خیال کیے جاتے ہیں۔آپ نے جو قواعد مرتب کیے ان کا ماحصل یہ تھا۔ا۔حدیث مرسل و منقطع پر استناد نہ کرنا۔۲۔احادیث مختلفہ میں باہم تطبیق کی کوشش کرنا۔۳۔احادیث صحیحہ کو ترک کرنے سے پر ہیز کرنا اور اگر کسی مسئلہ میں حدیث مل جائے تو قیاس کو ترک کردینا ( دراصل حنفیوں میں قیاس اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کے وقت میں احادیث کی تدوین پوری طرح نہ ہوئی تھی اور ان کے پاس احادیث کا ذخیرہ کم تھا)۔- اگر اقوالِ صحابہ مخالف حدیث ہوں تو ان سے استدلال نہ کرنا۔آپ کہا کرتے تھے رجال و نحن رجال۔۵۔رائے خلاف شرع اور قیاس شرع میں تمیز کرنا۔آپ استحسان کے خلاف تھے۔فرماتے ت من استحسن فانه اراد ان يكون شارعا۔۶۔حدیث خواہ کسی درجہ کی بھی ہونا سخ قرآن نہیں ہو سکتی۔۷۔قرآت شاذ ، جو قرآت متواترہ کے مخالف ہیں قابل عمل نہیں۔۸۔اگر کوئی حکم وقت یا شرط پر معلق ہو اور وقت یا شرط جاتی رہے تو ایسا حکم موقوف ہوگا۔۹۔اجماع سکوتی حجت نہیں۔ا۔حکم مطلق کو مقید پرمحمول نہیں کیا جائے گا۔۔ایسا کوئی عمومی حکم نہیں جس میں کچھ نہ کچھ تخصیص ہو۔۳۰ اختلافی مسائل اور امام صاحب کا مسلک خلق قرآن کا مسئلہ بڑی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔حتی کہ بادشاہوں تک اس کے قائل تھے کہ قرآن مخلوق ہے مگر امام شافعی دوسری صدی کے وہ سرخیل ہیں جو اس کے خلاف ڈٹ گئے اور انہوں