مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 44 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 44

44 اسی طرح حجاج نو مسلموں سے بھی جزیہ وصول کیا کرتا تھا۔آپ نے اسے بند کر دیا۔اس پر مصر میں اتنے مسلمان ہوئے کہ حیان بن شریح نے لکھا کہ آمدنی گھٹ گئی ہے اور مجھے قرض لے کر مسلمانوں کو وظائف دینے پڑتے ہیں۔آپ نے اسے لکھا کہ " جزیہ بہر حال موقوف کر د ورسول الله ﷺ ہادی بنا کر بھیجے گئے تھے محصل بنا کر نہیں“۔علی شراب پر پابندی ان ایام میں شراب کا رواج عام ہورہا تھا۔محلوں اور بازاروں میں ہر جگہ شراب چلتی تھی۔غیر مسلم مسلمان باشندوں کے شہروں میں آکر شراب فروخت کرتے تھے۔آپ نے حکماً اس پر پابندی لگادی اور شراب نوشی کی دکانوں کو بند کر دیا۔اس طرح نبیذ اور طلاء وغیرہ کا استعمال حد سے تجاوز کر رہا تھا۔آپ نے ایسا کرنے سے منع کیا۔شراب کی مشکوں کو پھاڑنے اور مٹکوں کو توڑنے کا حکم دیا۔عمر بن عبدالعزیز نے ایک شخص کو شراب پینے پر اسی کوڑے لگوائے تو وہ شخص تائب ہو گیا اور آپ نے اسے چھوڑ دیا۔۱۸ باغ فدک مروان نے باغ فدک ذاتی جاگیر میں شامل کر لیا تھا اور آل رسول کو اس کی آمدنی سے محروم کر دیا تھا۔آپ نے رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کے طرز عمل کے مطابق بنو ہاشم پر خرچ کرنا شروع کر دیا۔22 روزه آپ سنت نبوی کے مطابق پیر اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے۔۲۰ے خلافت کی اصلاح اموی بادشاہوں میں شخصی خلافت کا رواج تھا اور اس کے علاوہ خلیفہ اور رعایا دو الگ الگ چیز میں نظر آتی تھیں۔نماز کے بعد خلفاء پر دور د بھیجا جاتا تھا۔لوگ مخصوص طریق سے انہیں سلام کرتے