مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 2 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 2

اسی طرح حضور فرماتے ہیں:۔مجد د وقت ان قوتوں اور ملکوں اور کمالات کے ساتھ آتا ہے جو موجودہ مفاسد کا اصلاح پانا ان کے کمالات پر موقوف ہوتا ہے“۔ھے پھر فرمایا :- ” خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہو سکتا ہے جو ظلی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو۔اس واسطے رسول کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق پائے کیونکہ خلیفہ در حقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے“۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی تفہیمات الہیہ میں فرماتے ہیں:۔ترجمہ: ہر نبی کی امت میں مجدد کا ظہور ضروری ہوتا ہے جو نبی کے دین کو فرقہ بندی پیدا کرنے والوں کے انتشار سے پاک کرے اور ایسا مجد دمحدث ہوتا ہے جسے سکینت (وحی، الہام۔ناقل ) کالباس عطا ہوتا ہے اور وہ وجوب تجریم، کراہت، سنت اور اباحت کو اپنی اپنی جگہ پر رکھتا ہے اور احادیث موضوعہ ،لوگوں کے قیاسات اور ہر قسم کے افراط و تفریط سے شریعت کو منزہ کرتا ہے۔واضح رہے کہ فقیہہ مجد نہیں ہوتا اوراگر وہ مجد داس نبی کا وصی ہوتو اس کے وجود پر مجددیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔سے حضرت المصلح الموعود مجد د کی تعریف یوں فرماتے ہیں:- ہر شخص جو الہام کے ساتھ تجدید دین کا کام کرتا ہے وہ روحانی مجدد ہے۔ہر شخص جو اسلام اور مسلمانوں کیلئے تجدید کا کوئی کام کرتا ہے وہ مجدد ہے چاہے وہ روحانی مجدد نہ ہو۔حضرت مسیح موعود نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ اورنگ زیب بھی مجدد تھا حالانکہ اور نگ زیب کو خودالہام کا دعویٰ نہیں تھا“۔2 علامہ معلمی تجدید کے معنے یہ بیان کرتے ہیں :- قـال الـعـلـقـمـى معنى التجديد احياء ما اندرس من العمل بالكتاب والسنة والامر بمتضاهما واعلم ان المجدد انما هو بغلبة الظن بقرائن احواله والانتفاع بعلمه - 2 علقمی کہتے ہیں کہ تجدید کے معنے کتاب اللہ اور سنت رسول میں سے جومٹ گیا ہے اس کو