مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 1
تجدید کیا ہے 1 عربی لغت کی مشہور کتاب ”المنجد“ میں لکھا ہے جدد و أَجَدَّ الشي صَيَّرَهُ جَدِيدا جدد ثوبًا لبسه جديدًا گویا مجدد کے لغوی معنے کسی چیز کو یا بنا دینا کے ہیں۔یعنی مجد دوہ ہے جو کسی چیز کے نقائص دور کر کے اس کی گرد صاف کر کے اسے نکھار عطا کر کے نیا بنا دے۔اصطلاحی معنے اسلامی اصطلاح میں مجدد سے مراد ایسا شخص ہے جو اسلام کو غلط تشریحات و تصورات سے چھانٹ کر الگ کرے۔صدی کے دوران پیدا شدہ غلطیوں اور بدعات کی اصلاح کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجدد کا مطلب واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہر ایک صدی کے سر پر وہ ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو دین کو تازہ کرے گا اور اس کی کمزوریوں کو دور کر کے پھر اپنی اصلی طاقت اور قوت پر اسے لے آئے گا۔سے اسی طرح فرماتے ہیں :- ” خلیفہ کے لفظ کو اشارہ کیلئے اختیار کیا گیا ہے کہ وہ نبی کے جانشین ہوں گے اور اس کی برکتوں میں سے حصہ پائیں گے۔جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوتا رہا اور ان کے ہاتھ سے برجائی دین کی ہوگی اور خوف کے بعد امن پیدا ہوگا۔یعنی ایسے وقتوں میں آئیں گے جب اسلام میں تفرقہ پڑا ہو گا۔ہے یہاں سوال ہو سکتا ہے کہ بحث مجدد کی اور معانی خلیفہ کے ہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضور نے مجدد، محدث اور خلیفہ کو ہم معنی مفہوم میں استعمال کیا ہے۔اس کیلئے شہادت القرآن صفحہ 44 کا مطالعہ کریں)۔