مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 351
351 بنی اسرائیل کے نبی صرف اپنی قوم کی طرف تھے۔نیز وہ ایک طرف تو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہر قوم میں نبی آئے ہیں۔دوسری طرف بنی اسرائیل کے سوا باقی اقوام کو غیر کتابی سمجھتے تھے اور ان کے نبیوں کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔اس قسم کے خیالات کا نتیجہ یہ تھا کہ مختلف اقوام میں صلح ناممکن ہورہی تھی۔اور ضد میں آکر سب لوگ کہنے لگ گئے تھے کہ صرف ہم ہی نجات پائیں گے، ہمارے سوا اور کوئی نہیں نجات پاسکتا، ہمارا ہی مذہب اصل مذہب ہے۔گویا ہر قوم خدا تعالیٰ کی اکلوتی بیٹی بنا اور اسی حیثیت میں رہنا چاہتی تھی۔اور دوسری قوموں سے اگر کسی رعایت کیلئے تیار تھی تو صرف اس قدر کہ تم بھی ہمارے مذہب میں داخل ہو کر کچھ حصہ خدا کے فضل کا پاسکتے ہو اور دوسری اقوام کی قدیم قومی روایات اور احساسات کو مٹا کر ایک نئی راہ پر لانا چاہتی تھی۔یعنی یہ امید رکھتی تھی کہ وہ اپنے بزرگوں کو جھوٹا اور فریبی قرار دیتے ہوئے اور اپنی ساری پرانی تاریخ کا ورق پھاڑتے ہوئے ان سے آکر مل جائے اور نئے سرے سے ایک پنیری کی طرح جو نئی زمین میں لگائی جاتی ہے بڑھنا شروع کر دے۔چونکہ یہ ایک ایسی بات تھی جس کے کرنے کیلئے بہت ہی کم انسان تیار ہو سکتا ہے۔خصوصاً ایسا انسان جن کے آباء شاندار کام کر چکے ہوں اور علوم کے حامل رہ چکے ہوں۔اس لیے قومی جنگ جاری تھی اور صلح کی کوئی صورت نہ نکلتی تھی۔بعض لوگ دوسرے کے بزرگوں کو بھی تسلیم کر لیتے تھے۔لیکن ایک مصلح یا معلم کی صورت میں نہیں بلکہ ایک بزرگ یا پہلوان کی صورت میں جس نے اپنے زور سے ترقی کی اور وہ اسی کی ذات تک محدود رہی۔آگے اس کے ذریعہ سے دنیا پر ہدایت قائم نہیں ہوئی اور اس کا نور دنیا میں نہیں پھیلا۔لوگوں نے اس کی دعاؤں سے یا اس کے معجزات و کرامات سے فائدہ اٹھایا لیکن وہ کوئی تعلیم اور اصلاحی سکیم لے کر نہیں آیا۔جیسے ایوب اور کرشن کی نسبت یہود اور بعض مسلمانوں کا خیال تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر اس نقطہ نگاہ کو ہی بالکل بدل دیا۔آپ نے بعض شخصیت کو دیکھ کر بزرگ تسلیم نہیں کیا اور حضرت مظہر جان جاناں کی طرح یہ نہیں کہا کہ کرشن جھوٹا نہیں معلوم ہوتا وہ ضرور خدا کا بزرگ ہوگا۔یا جیسے سناتنی کہتے ہیں کہ محمد (ع) ایک بزرگ تھے مگر ہمارا ہی مذہب سچا ہے۔بلکہ آپ نے اس مسئلہ پر اصولی طور پر نگاہ ڈالی۔(۱) آپ نے سورج اور اس کی شعاعوں کو پانیوں اور ان کے اثرات ، ہوا اور اس کی تاثیرات کو دیکھا اور کہا جس خدا نے سب انسانوں کو ان