مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 342
342 ”جو مجھے دیا گیا ہے وہ محبت کے ملک کی بادشاہت اور معارف الہی کے خزائن ہیں جن کو بفضلہ تعالیٰ اس قدر دوں گا کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں گے۔(روحانی خزائن مطبوعہ لندن 1984ء جلد سوم صفحہ 566 ءازالہ اوہام ) یہ ارشاد پڑھتے ہوئے ذہن فوراً اس حدیث نبوی کی طرف چلا جاتا ہے جس میں یہ پیشگوئی مذکور ہے کہ یفیض المال حتى لا يقبله احد بخاری کتاب بدء الخلق۔باب نزول عیسیٰ بن مریم علیهما السلام) کہ آنے والا یح اس قدر مال تقسیم کرے گا کہ کوئی لینے والا نہیں ملے گا۔آج یہ پیشگوئی کس شان سے پوری ہو چکی ہے۔مسیح محمدی نے علوم و عرفان کے خزانے پانی کی طرف بہا دیئے اور دنیا کو سیراب و شاداب کر دیا۔آپ نے کیا خوب فرمایا: خدمت خلق وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امیدوار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عظیم الشان کارناموں میں سے ایک عظیم کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے بنی نوع انسان کی خدمت کرنے والی جماعت تیار کی اور تاریخ احمدیت اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی خدمت کا کوئی میدان نظر آیا جماعت احمدیہ کے سرفروش ہمیشہ بے لوث خدمت کے جذبہ سے، بلا امتیاز مذہب وملت ، اس میدان میں کود پڑے۔جماعت کی تعداد کم اور وسائل محدود، مالی لحاظ سے جماعت کسی حکومت سے نہ کبھی کوئی مدد لیتی ہے نہ اس کی طالب۔اس کی ساری پونچی تو وہ چندے ہیں جو اس جماعت کے جانثار بڑی محنت سے کمائی ہوئی آمد میں سے اپنا پیٹ کاٹ کر ، اپنی ضروریات کو پس پشت ڈالتے ہوئے جماعت کی جھولی میں ڈالتے ہیں۔اس کم مائیگی کے باوجود خدمت خلق کے میدان میں ہر جگہ یہی جماعت دن رات سرگرم عمل نظر آتی ہے۔افریقہ کے کسی ملک میں فاقے اور قحط سالی کا امتحان ہو، گجرات میں زلزلہ کے متاثرین کو ضرورت ہو ، پاکستان میں سیلاب زدگان کی امداد کا سوال ہو یا جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں زلزلہ سے بے گھر ہونے والوں کو کھانا مہیا کرنے کا موقع ہو، جماعت احمدیہ کی عالمگیر رفاہی تنظیم Humanity First کسی جگہ پیا سے لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کرتی