مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 339
339 اختلافی مسائل میں صحیح فیصلہ حدیث نبوی میں مذکور الفاظ حكمًا عدلاً کے مطابق سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسلمانوں کے مابین اختلافی مسائل میں اللہ تعالیٰ سے علم پا کر صحیح فیصلہ فرمایا۔آپ نے مسلمانوں کو صحیح اسلامی عقائد کا عرفان عطا کیا۔غلطیوں سے آگاہ کیا اور مختلف امور کے بارہ میں ان کی غلطیوں کی اصلاح کی نیز عقلی دلائل سے ثابت کیا کہ دراصل یہی سچے اسلامی عقائد ہیں۔عقائد کی اصلاح کے میدان میں جماعت نے دنیا کو جو فیضان عطا کیا اس کی تفصیل بہت لمبی ہے۔چند امور کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔وفات حضرت عیسی علیہ السلام مسلمانوں میں ایک بہت ہی خوفناک اور بے بنیاد یہ عقیدہ راہ پا گیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت نہیں ہوئے بلکہ آج بھی آسمان پر زندہ موجود ہیں اور وہی آخری زمانہ میں آسمان سے نازل ہو کر امت محمدیہ کو ہولناک خطرات سے بچائیں گے اور ان کے نجات دہندہ ہوں گے۔ظاہر ہے کہ یہ عقیدہ آنحضرت ﷺ کی ارفع شان سے متصادم اور سخت گستاخی کا موجب ہے۔کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ رسول پاک ﷺ تو مشکلات کی چکی میں پستے رہے، شعب ابی طالب کا واقعہ ہو یا ہجرت مدینہ کا، طائف کا سفر ہو یا غزوہ احد اور حنین کا موقع۔ان سب مواقع پر اللہ تعالیٰ نے نعوذ باللہ آپ کی تو مد داور دستگیری نہ کی اور جب حضرت عیسی علیہ السلام پر مشکل گھڑی آئی تو خدا تعالیٰ کی محبت اور قدرت جوش میں آگئی اور حضرت مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔وہ اب تک زندہ ہیں اور جب آخری زمانہ میں امت مسلمہ ہر طرف سے حملوں کی زد میں ہوگی، جب دجالی طاقتیں ہر طرف سے اس پر چڑھ دوڑیں گی تو اس وقت یہی اسرائیلی نبی ان کیلئے نجات دہندہ کے طور پر آئے گا۔یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس کو لے کر عیسائی آنحضرت ﷺ کے مقابل پر حضرت مسیح ناصرٹی کی فضیلت ثابت کرتے ہیں اور مسلمان اس خود ساختہ غلط عقیدہ کی بنا پر کچھ جواب دینے کے قابل نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس غلط عقیدہ سے عالم اسلام کو نجات بخشی۔حضرت مسیح موعود