مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page xxxvii
X عبوری رنگ رکھتا تھا جسے وقتی اور عارضی طور پر آسمانی نظام خلافت کی نیابت کا شرف ضرور حاصل ہوا مگر اسے اس مقدس نظام کا متبادل ہر گز نہیں کہا جاسکتا۔کیونکہ خلیفہ راشد بین الاقوامی شخصیت کا حامل ہوتا ہے، خدا کا نائب اور محبوب خدا کا نمائندہ جس کی بیعت فرض ہے۔جو ایک وقت میں صرف ایک ہی ہوسکتا ہے۔برخلاف مجدد کے جن کی تعداد معین نہیں۔دوسرے یہ کہ مسجد دتجدید دین کیلئے اور خلیفہ تمکین دین کیلئے جلوہ گر ہوتا ہے (النور )۔اور وہ بھی علاقائی اور صوبائی یاملکی سطح پر نہیں بلکہ بین الاقوامی حیثیت سے جس پر خلافت راشدہ کی تاریخ شاہد ناطق ہے۔قرآن مجید کی اصطلاح میں ہر مجدد نبی نہیں ہوتا مگر ہر نبی مجد دضرور ہوتا ہے اور اس نقطہ نگاہ سے حضرت مسیح موعود نے آنحضرت ﷺ کو مجد داعظم اور خود کو مجدد مآة حاضرہ “ قرار دیا (لیکچر سیالکوٹ ، صفحہ 604 )۔حضرت اقدس کی نسبت دہلی کے شہرہ آفاق صوفی اور روحانی پیشوا حضرت خواجہ میر درد رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ہے کہ : - اس نیر اعظم کے نور میں سب فرقوں کے ستاروں کی روشنی گم ہو جائے گی۔(میخانه در د صفحه 128 مرتبہ سید ناصر نذیر فراق) بایں ہمہ ہر ایک صاحب بصیرت صدائے ربانی بن کر منادی کر سکتا ہے کہ جس طرح حضرت آدم سے حضرت عیسی علیہ السلام جیسے خلفاء یعنی انبیاء صرف مجدد اعظم محمد عربی ﷺ کی آسمانی بادشاہت کی منادی کیلئے تشریف لائے تھے۔اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز سے حضرت سید احمد بریلوی شہید بالاکوٹ تک متعدد مجددین منصہ شہود پر آئے۔ان کی آمد مسیح موعود اور مہدی مسعود کے استقبال کی تیاری کیلئے تھی۔جیسا کہ حضرت فرید الدین عطار رحمتہ اللہ ( ولادت 513 ھ وفات 627ھ ) کے درج ذیل اشعار سے خوب واضح ہوتا ہے صد ہزار آں اولیاء روئے زمیں از خدا خوہند مهدی یقیں 3 9' یا الہی مهدیم از غیب آر عدل گرد تا جہاں , آشکار بنا بیع المودة جلد 3 صفحہ 141 مؤلفہ حضرت شیخ سلیمان متوفی 1294ھ) یعنی روئے زمین پر لاکھوں اولیاء خدا تعالیٰ سے یقیناً مہدی کے خواستگار ہیں۔الہی