مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 307 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 307

307 تھے۔اب میں بھی عورت ہوں جو یہ پیش کر رہی ہوں اور اس طرح آپ کو سلیمان سے مشابہت حاصل ہوگئی ہے۔ہارون الرشید نے بھی اس پر فخر کیا کہ اسے حضرت سلیمان سے تشبیہہ دی گئی۔(7) ساتواں شبہ یہ پیدا ہو گیا تھا کہ قرآن کریم میں تاریخ کے خلاف باتیں ہیں۔یہ محبہ مسلمانوں میں بھی پیدا ہو گیا تھا اور غیر مسلموں میں بھی۔سرسید احمد جیسے لائق شخص نے بھی اس اعتراض سے گھبرا کر یہ جواب پیش کیا کہ قرآن کریم میں خطا بیات سے کام لیا گیا ہے۔یعنی ایسے واقعات کو یا عقائد کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے جو گو صیح نہیں مگر مخاطب ان کی صحت کا قائل ہے۔اس لیے اس کے سمجھانے کیلئے انہیں صحیح فرض کر کے پیش کر دیا گیا۔لیکن یہ جواب در حقیقت حالات کو اور بھی خطرناک کر دیتا ہے۔کیونکہ سوال ہوسکتا ہے کہ کس ذریعہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ قرآن کریم میں کون سی بات خطابی طور پر پیش کی گئی ہے اور کون سی سچائی کے طور پر۔اس دلیل کے ماتحت تو کوئی شخص سارے قرآن کو ہی خطابیات کی قسم کا قرار دے دے تو اس کی بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور دنیا کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔خطابی دلیل کیلئے ضروری ہے کہ خود مصنف ہی بتائے کہ وہ خطابی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مذکورہ بالا اعتراض کے جواب میں خطابیات کے اصول کو اختیار نہیں کیا بلکہ اسے رڈ کیا ہے۔اور یہ اصل پیش کیا ہے کہ قرآن خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔اس عالم الغیب کی طرف سے جو کچھ بیان ہوا ہے وہ یقیناً درست ہے اور اس کے مقابلہ میں دوسری تاریخوں کا جو اپنی کمزوری پر آپ شاہد ہیں پیش کرنا بالکل خلاف عقل ہے۔ہاں یہ ضروری ہے کہ قرآن کریم جو کچھ بیان کرتا ہے اس کے معنے خود قرآن کریم کے اصول کے مطابق کئے جائیں۔اسے ایک قصوں کی کتاب نہ بنایا جائے اور اس کی پر حکمت تعلیم کو سطحی بیانات کا مجموعہ نہ سمجھ لیا جائے۔(8) آٹھویں غلطی جس میں لوگ مبتلا ہورہے تھے یہ تھی کہ قرآن کریم بعض ایسے چھوٹے چھوٹے امور کو بیان کر دیتا ہے جن کا بیان کرنا علم وعرفان اور ارتقائے ذہن انسانی کیلئے مفید نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے بھی غلط ثابت کیا اور بتایا کہ قرآن کریم میں کوئی فضول امر بیان نہیں ہوا۔بلکہ جس قدر مطالب یا واقعات بیان کئے گئے ہیں نہایت اہم ہیں۔میں مثال کے