مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 262
262 دعویٰ مجددیت حضرت عثمان بن فودی کے زمانہ میں جنوبی افریقہ میں مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ان کی اکثریت ارکانِ اسلام سے ناواقف تھی۔طرح طرح کی بدعات ان میں پھیل چکی تھیں۔ایسے حالات میں عثمان بن فودی کا دل تھا جو مسلمانوں کیلئے بے قرار ہوا اور اسی کی رُوح تھی جو اسلام کیلئے تڑپ اُٹھی اور خدا تعالیٰ نے اسے تیرھویں صدی کے سر پر اپنی امت کی اصلاح کی خاطر مجدد بنا کر مبعوث فرمایا۔چنانچہ عثمان بن فودی نے پہلی مرتبہ اپنی کتاب "حصن الافہام میں مصلح اور مجدد ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنے مخالفین ک بتایا کہ مسیح اسلامی علم ان کے پاس ہے۔اے نوٹ : یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپ کی اکثر تالیفات کے ٹائٹل پیج پر آپ کے نام کے ساتھ الشيخ المجدد نورالزمان“ کے القابات بھی درج ہیں۔احیائے سنت و تجدید دین احیائے سنت اور تجدید دین کے سلسلہ میں حضرت شیخ ڈان فود یو نے وہ عظیم الشان کام کیا ہے جسے تاریخ ہمیشہ سنہری حروف میں یادر کھے گی۔آپ کی 63 سالہ زندگی اسی مقدس فریضہ کی انجام دہی کیلئے وقف رہی۔مٹ جاؤں میں تو اس کی پرواہ نہیں ہے کچھ بھی میری فنا سے حاصل گر دین کو بقا ہو آپ کی بیانوے (92) سے زائد تصانیف احیائے سنت کے فریضہ کی انجام دہی کی ہی ایک کڑی ہیں۔احیائے سنت کی یہی تحریک ہی تھی جس کی وجہ سے بالآخر حضرت عثمان بن فودی گو اور آپ کے متبعین کو ھاؤس میں 12 سال تک جہاد بالسیف سے بھی کام لینا پڑا اور ایک آزاد اسلامی ریاست کے قیام میں کامیابی حاصل ہوئی۔آپ کے اس عظیم کارنامہ کا ذکر کرتے ہوئے جرنل آف دی افریقین سوسائٹی میں لکھا ہے: "Shehu lived to see the conclusion of his life's works۔He had found Muhammadanism under a han he left it