مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page xxx of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page xxx

III مٹانا ہے۔سیہ دونوں باتیں ان اللہ یبعث کے اندر مضمر ہیں۔علاوہ ازیں یہ امور بھی ان الله يبعث میں موجود ہیں۔کہ (۱) مجدد بھیجنے کا فیصلہ کرنا (ب) شخصیت کا تعین و انتخاب ( ج ) علاقہ وجگہ کہ کس ملک / شہر / ماحول میں مجدد کام کرے (ح) وقت کب مجدد کا متقاضی ہے (د) مجدد کی علمی فکری راہنمائی (ز) مجدد کے فرائض کی بجا آوری میں اس کی راہنمائی اور تائید و حفاظت (و) ایک یا ایک سے زائد مسجد دمطلوب و درکار ہیں (ہ) مجدد کی مساعی کو مؤثر و نتیجہ خیز بنانا۔یہ جملہ امور ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی انسانی منصوبہ ان امور کو سر انجام نہیں دے سکتا۔اس لیے فرمایا گیا کہ ان اللہ یبعث کہ ایسی پر حکمت و با مقصد بعثت خدائے رحیم وقد میر کی بارگاہ سے ہی ہوسکتی ہے۔(۳) لهذه الامة کے الفاظ بھی اہم پہلور کھتے ہیں۔(0) دل میں عربی زبان کے اعتبار سے یہ حقیقت بتائی گئی ہے کہ امت کے فائدہ یہ اہتمام ہوا کرے گا۔اس کی ضرورت اس لیے محسوس فرمائی گئی کہ امت کی وحدت پارہ پارہ کرنے والے گروہ کبھی یہ گوارا نہیں کر سکتے کہ ان کی موجودگی میں کوئی اصلاحی یا تعمیری فکر میدان میں آئے یہی وجہ ہے کہ جس قدر مجد دین امت کی اصلاح اور تجدید کیلئے وقتاً فوقتاً آتے رہے ہیں ان کی بلا استثناء مخالفت اور مزاحمت ہوتی آئی ہے۔(ب) لهذه الامة میں کسی معین گروه ، فرقہ یا طبقہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔اگر چہ امت کی وحدت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا لیکن یہ سبھی ٹکڑے دو حالتوں میں ہیں۔ایک حالت ٹکڑا یا فرقہ بنانے والوں کی سوچ۔جس کے تحت وہ اپنے سوا کسی دوسرے کو برداشت نہیں کرتے لیکن تجدید کا دائرہ اس فرمان نبوی کے ماتحت کسی خاص گروہ یا فرقہ سے متعلق نہیں بلکہ لهذه الامة ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ کسی مجدد وقت نے کسی خاص فرقہ یا گروہ تک اپنی خدمات کا دائرہ محدود نہیں رکھا۔ہاں مختلف مجددین کو تقسیم کاروں نے اسی طرح باہم فرقوں کے لیبل لگارکھے ہیں جس طرح فرقوں میں امت کی وحدت کو بانٹے بیٹھے ہیں۔