مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 230 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 230

230 ہمارے غلبے کے بعد ان حرکات مستوجب جہاد سے باز آجائیں تو ہم کو ان سے بھی لڑنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔سرکار انگریز خواہ منکر اسلام ہے مگر مسلمانوں پر کچھ ظلم وتعدی نہیں کرتی اور نہ ان کو عبادت لازمی سے روکتی ہے۔ہم ان کے ملک میں علانیہ وعظ کہتے اور ترویج مذہب کرتے ہیں وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی۔بلکہ ہم پر کوئی زیادتی کرتا ہے تو اس کو سزا دینے کو تیار ہے۔ہمارا اصل کام اشاعت توحید الہی اور احیائے سنن المرسلین ہے۔سو ہم بلا روک ٹوک اس ملک میں کرتے ہیں۔پھر ہم سرکار انگریزی پر کس سبب سے جہاد کریں؟“ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی آپ کا ذکر کرتے ہوئے یہی بات بیان فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں:- ان لوگوں کی نیتیں نیک تھیں۔وہ چاہتے تھے کہ ملک میں نماز اور اذان اور قربانی کی جو رکاوٹ سکھوں نے کر رکھی ہے دور ہو جائے۔خدا نے ان کی دعا کو قبول کیا اور قبولیت کو سکھوں کے دفعیہ اور انگریزوں کو اس ملک میں لانے سے کیا۔یہ ان کی دانائی تھی کہ انہوں نے انگریزوں کے ساتھ لڑائی نہیں کی بلکہ سکھوں کو اس قابل سمجھا کہ ان کے ساتھ جہاد کیا جائے۔مگر چونکہ وہ زمانہ قریب تھا کہ مہدی موعود کے آنے سے جہاد بالکل بند ہو جائے۔اس واسطے جہاد میں ان کو کامیابی نہ ہوئی۔ہاں بسبب نیک ہونے کے ان کی خواہش اذانوں اور نمازوں کے متعلق اس طرح پوری ہو گئی کہ اس ملک میں انگریز آگئے۔28 بالکل یہی دلائل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیئے ہیں کہ یہاں ہمیں مکمل مذہبی آزادی ہے کوئی قدغن نہیں۔اس لیے انگریزوں سے جہاد خلاف احکام اسلام ہوگا۔فتدبروا بات چل رہی تھی سید صاحب کے جہاد پر جانے کی۔چنانچہ 11 جنوری 1828ء کو جمعرات کے دن سادات کرام ، علماء عظام، مشائخ ذوی الاحترام ، امراء عالی مقام وسائر خواص و عام نے سید صاحب کے ہاتھ پر امامت جہاد کی بیعت کی۔ہندوستانی غازی آپ کو امیر المومنین ، اہل سرحد سید بادشاہ اور سکھ آپ کو خلیفہ صاحب کہا کرتے تھے۔آپ کا جہاد صرف شریعت اسلامیہ کے احیاء کیلئے تھا۔چنانچہ آپ نے جہاد کی کامیابی کی دعا بارگاہ ایزدی میں یوں کی :-