مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 204 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 204

204 کی کوشش کی جائے تو ملا اور صوفی کے اختلافات ختم ہو جائیں۔مختلف فقہی مسالک میں شدید اختلاف تھا۔آپ نے فقہ اور اصول فقہ سے روشنا کرایا۔ائمہ مجتہدین کا صحیح مقام بتایا۔آپ کی مندرجہ ذیل تصانیف نے حدیث نہی کا معیار پیش کیا۔انصاف عقد الجيد - حجۃ اللہ البالغہ تقسیمات الہیہ کی بعض تفہیمات۔ازالۃ الخلفاء اور سب سے بڑھ کر موطا امام مالک کی شرح “۔اس طرح فقہ اور حدیث سے استدلال کرنے کی راہیں امام صاحب نے اہل فہم کیلئے روشن کر دیں۔اندھی تقلید سے آپ کی فطرت کو بھی نفرت تھی۔فرمایا:- میری جبلت میں تقلید سے انکار ہے اور کلیتہ اس سے بھڑکتی ہے۔10 مولانامحسن اس بارہ میں لکھتے ہیں :- (ترجمہ) ان لوگوں کی مخالفتیں شاہ صاحب کو اس طرز عمل سے نہ روک سکیں جو ظاہر سنن و آثار کے مطابق فقہاء کے اقوال کو ترجیح دینے کا تھا۔اس سلسلہ میں جو مسلک صاف ستھرا تھا اس کو مکدر طریقوں سے وہ جدا کرتے تھے۔شاہ صاحب ان متعصب سخت پٹھانوں کے درمیان علانیہ اس مسلک کا اظہار فرماتے تھے۔مقصد امت کی بہی خواہی تھی اور خدا کے اس عہد کو پورا کرنا تھا جس کا علماء سے وعدہ لیا گیا ہے۔اے سنت وحدیث سے عشق کا ہی نتیجہ تھا کہ خدا آپ کو علم لدنی عطا کرتا تھا اور زیارت رسول سے آپ مشرف ہوئے اور حضور نے آپ کو بشارات دیں۔چنانچہ حجۃ اللہ میں لکھتے ہیں :- ایک دن میں نماز عصر کے بعد بیٹھا ہوا تھا اور خدا کی طرف متوجہ تھا۔تو رسول اللہ یا اللہ کی روح ظاہر ہوئی اور کسی چیز سے جو میرے خیال میں کپڑا تھا مجھے ڈھانپ دیا اور اسی حالت میں میرے من میں پھونکا گیا کہ دین کی تشریح کیلئے ایک خاص طریقہ کی طرف مجھے اشارہ کیا جارہا ہے۔میں نے اپنے اندر اس حال میں ایک روشنی پائی جولحہ محہ پھیلتی جاتی تھی۔الله اسی طرح لکھا ہے کہ حضرت امام حسن اور حسین نے رویا میں آپ کو رسول اللہ ﷺ کا قلم عنایت فرمایا اور رسول اللہ ﷺ کی چادر آپ کو اوڑھائی جو آپ نے تعظیماً سر پر رکھ لی اور حق تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔آپ فرماتے ہیں :-