مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 189 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 189

189 -1 پہلا مسئلہ نبوت کا جو کہ بہت اہم ہے۔نبی کون ہوتا ہے اور اس اُمت میں نبوت ہوسکتی ہے یا نہیں۔حضرت مجدد کا مسلک کیا تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- "جیسا کہ مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا کہ اگر چہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کیے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے“۔۳۰۔دوسرا مسئلہ وفات مسیح اور ہجرت مسیح الی کشمیر کا ہے۔اس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:- مجد والف سرہندی صاحب فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں بعض قبریں ایسی ہیں جن کو میں پہچانتا ہوں کہ نبیوں کی قبریں ہیں۔اسے پتا چلا کہ وہ بھی احمدیوں کی طرح رام ، کرشن وغیرہ کو نبی تسلیم کرتے تھے نیز گمان کیا جاسکتا ہے کہ مسیح کی قبر بھی ان پر منکشف ہو چکی تھی۔-۳۔تیسرا مسئلہ مہدی کی آمد کا ہے کہ اس کے آنے کا وقت کیا ہے۔کیا وہ علامات پوری ہوئی ہیں یا نہیں۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- اسی طرح نواب صدیق حسن خانصاحب حج الکرامہ میں اور حضرت مجددالف ثانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ احادیث صحیحہ میں لکھا ہے کہ ستارہ دنباله دار یعنی ذوالسنین مہدی معہود کے ظہور کے وقت میں نمودار ہو گا۔چنانچہ وہ ستارہ 1882ء میں نکلا۔۳۲ - چنانچہ آپ اپنے ایک مکتوب میں یہ ذکر کرتے ہوئے کہ قیامت کا زمانہ قریب ہے اور مہدی کے ظہور کا وقت نزدیک ہے۔فرمایا:- ” قیامت قریب ہے اور ظلمتوں کی گھٹائیں چھارہی ہیں۔کہاں خیریت و کہاں نورانیت شاید حضرت مہدی علیہ الرضوان خلافت ظاہری کی تائید پاکر اس کو رواج دیں گئے۔اس حوالہ سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ فتنے رفتہ رفتہ بڑھ رہے تھے اور عام مجدد کے بس کا روگ نہ رہے تھے بلکہ ایک مجدد کامل اور امتی نبی کی ضرورت تھی جو ان بڑھتے ہوئے فتنوں کی اصلاح