مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 171
171 معزول کر کے اس کی جگہ عبدالرحیم خان خاناں کو مقرر کیا گیا تو اس نے بوہروں کے عقیدہ مہدویت کی حمایت کرنا شروع کر دی جس کے نتیجے میں وہ تمام مہدوی جو گوشہ عزلت میں چلے گئے تھے دوبارہ باہر نکل آئے اور شیخ کی تحریک اصلاح بڑی حد تک دب گئی۔شیخ کو اس کا بڑا قلق ہوا۔انہوں نے دوبارہ عمامہ سر سے اتار دیا اور اکبر سے ملنے کی غرض سے آگرہ کا قصد کیا۔دراصل ان کا مقصد اکبر کو اس کا وعدہ یاد دلانا اور اس ضمن میں جو کام ہو چکا تھا اس کی اطلاع دینا تھا، نیز عزیز الدین کی معزولی اور عبدالرحیم خان خاناں کے تقرر کے نتیجے میں جو تغیر رونما ہو گیا تھا اس کی تفصیلات سے اکبر کو آگاہ کرنا تھا۔مگر اس کا انہیں موقع نہ ملا۔وہ گجرات سے چلے تو کچھ لوگ جو فرقہ مہدویہ سے تعلق رکھتے تھے ان کے تعاقب میں نکلے۔جب شیخ اجین کے نواح میں پہنچے تو انہوں نے موقع پا کر ان کو قتل کر ڈالا۔یہ حادثہ 986ھ کو پیش آیا۔شیخ کے رفقائے سفر ان کے جسد خاکی کو وہاں سے پیٹن لے آئے اور انہیں ان کے آبائی قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔شیخ محمد بن طاہر پینی متعدد علمی کتابوں کے مصنف تھے۔جن میں بہت اہم اور اہل علم میں زیادہ مقبول و معروف کتابیں یہ ہیں۔مشتمل ؟ ا۔مجمع بحار الانوار في غرائب التنزيل ولطائف الاخبار : یہ حدیث کی ایک لغت ہے جو نہایت اہمیت اور جامعیت کی حامل ہے اور دو نخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔شیخ نے یہ منجم اپنے مرشد و استاذ شیخ علی متقی کے نام معنون کی ہے۔یہ بڑی ضخیم کتاب ہے جو 1668 صفحات پر اور اس کی کتابت بہت گنجان ہے۔اس کو حروف مصادر کی ترتیب سے مرتب کیا گیا ہے۔جو الفاظ احادیث میں استعمال ہوئے ہیں ان کے مصادر اور مشتقات اس لغت میں موجود ہیں اور احادیث کا متن بھی اس میں درج کیا گیا ہے۔اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف الفاظ کے معنے لکھنے پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ متعلقہ حدیث کے بارے میں وضاحت طلب نکات کی تشریح بھی کی گئی ہے۔اس لغت سے پہلے اس قسم کے جتنے بھی لغت مرتب کیے گئے ہیں وہ اس کے سامنے کم اہمیت کے حامل نظر آتے ہیں۔اہل علم میں یہ کتاب بڑی مقبول ہے۔۲۔تذکرۃ الموضوعات : یہ موضوع احادیث سے متعلق ایک ضخیم کتاب ہے۔اس کے مقدمہ میں مصنف رحمہ اللہ نے یہ وضاحت کی ہے کہ کسی حدیث کو محض اس لیے موضوع نہیں قرار دے