مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 149
149 برساتے تھے اور آپ کے مواعظ میں جم غفیر شامل ہوا کرتا تھا۔طوفی کہتا ہے :- منبر پر مفسرین کی طرح بولتے تھے۔فقہ وحدیث میں آپ کو کمال حاصل تھا۔ایک وقت میں کتاب وسنت اور فقہ و علوم نظریہ کے وہ دقائق حل کر جاتے کہ بڑے سے بڑا عالم دنوں میں نہ بیان کر سکے۔گویا تمام علوم آپ کے سامنے بکھرے پڑے تھے جو چاہتے اٹھا لیتے اور جسے چاہتے چھوڑ دیتے۔علامہ اقشہری کہتا ہے ”قلمه و لسانه متقاربانه ۳۰ آپ کی زبان اور قلم تقریباً ایک ہی رفتار سے چلتے تھے۔امام برزالی معجم میں فرماتے ہیں:۔آپ ہر جمعہ کو لوگوں کے سامنے قرآن حکیم پر مبسوط تقریر کیا کرتے تھے۔آپ کی وہ انقلاب انگیز تقاریر دنیا کے کانوں میں اب تک گونج رہی ہیں جو آپ نے تاتاریوں کے خلاف کیں تھیں۔۔۔۔700 ھ میں عوام ، امراء مصر کے سامنے وہ خطبے دیئے کہ ان کے بجھے ہوئے دل لذت ایثار سے بھر گئے اور وہ ہر ممکن قربانی کیلئے تیار ہو گئے۔اُسی سال آپ نے اہل دمشق کو دشمن کے خلاف اس قدرا کسایا کہ تمام ملک سر بکف ہو کر میدان میں نکل آیا اور دشمن پر اس قدر رعب چھا گیا کہ وہ تاخت و تاراج کے ارادے ترک کر کے واپس چلے گئے۔پھر 720ھ میں مقام شخحب پر آپ نے بادشاہ ، حکام فوج اور دل شکستہ لشکر کے سامنے وہ اثر میں ڈوبی ہوئی تقاریر کیں کہ شکست فتح سے، ذلت عزت سے اور ناکامیاں کامرانیوں میں تبدیل ہوگئیں۔705ھ میں دو مجالس مناظرہ کا انعقاد ہوا۔ایک نائب السلطنت افرم کے ہاں اور دوسری مصر میں قضاۃ کے سامنے۔ہر دو میں آپ کی زبان نے وہ جو ہر دکھائے کہ دنیا آپ کی فصاحت کا لوہا مان گئی اور مخالفین کے ہاتھ بغیر ندامت اور ذلت کے اور کچھ نہ آیا۔اس طرح 706 ھ اور 707ھ میں دو اور مجالس مناظرہ منعقد ہوئیں جن میں آپ کو زبردست کامیابی نصیب ہوئی۔اسے ذہبی کہتے ہیں :- میں نے آپ کے ایام جوانی کی بعض تقاریر سنیں۔آپ کے کلام سے مجلس پر ہیبت چھا جاتی تھی اور دلوں پر وجد سا طاری ہو جاتا تھا۔۳۲