مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 129 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 129

129 نے میری طرف ذرہ بھر توجہ نہیں کی ، اُٹھ کر استقبال نہیں کیا۔چنانچہ اس نے کہا کہ اس فقیر کو نکال دو۔آپ نے ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔نجانے اس نظر میں کیا جادو تھا کہ وہ اپنی جگہ پر تھر تھر کانپنے لگا اور آپ کے ہاتھ پر تائب ہو گیا۔جادو نگہے از اثر چشم سیه مهر پیمانہ مئے و مئے پیماند فروشد تے اسی طرح آپ ایک مرتبہ بغداد میں تھے۔یہاں سات آتش پرست مشہور تھے۔وہ آپ کی مجلس میں حاضر ہوئے۔جب آپ کی نظر کیمیا ان پر پڑی تو وہ ہیبت سے کانپنے لگے۔آپ نے انہیں ارشاد فرمایا گمراہو! آگ چھوڑ کر خدا کو اختیار کرو۔انہوں نے عرض کیا ہم آگ کے جلنے ، جلانے سے ڈرتے ہیں۔آپ نے فرمایا جب تک خدا کو نہیں مانتے نجات ممکن نہیں۔انہوں نے پوچھا آپ خدا کو مانتے ہیں۔کیا آگ آپ کو نہیں جلاتی۔آپ نے بڑے جوش سے فرمایا ” میں تو خدا کا بندہ ہوں۔آگ اس بندے کے جوتے کو بھی نہیں جلا سکتی۔انہوں نے عملی مظاہرہ چاہا۔آپ نے اپنا جوتا آگ میں پھینکا تو وہ سرد ہوگئی۔تب یہ ساتوں آتش پرست کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔ااے آپ نے ہندوستان میں محسوس کیا کہ یہاں موسیقی کو بہت دخل ہے اور لوگ اس میں بڑی رغبت رکھتے ہیں۔چنانچہ آپ نے ایسے حلقوں میں تبلیغ کرنے کیلئے محفل سماع کی بنیاد ڈالی اور ہنود کے دلپسند طریقے سے انہیں اسلام کا پیغام پہنچایا اور یہی محفل سماع آہستہ آہستہ قوالی کی شکل اختیار کر گئی۔۱۲ لیکن آپ کے بعد قوالی کا استعمال غیر ضروری طور پر بڑھ گیا اور اب تو با قاعدہ فلمی گانوں کی صف میں آتی جارہی ہے۔جو خواجہ صاحب کے مقصد کے صریحاً خلاف ہے۔رجوع الى الحق کی یہ کیفیت تھی کہ ایک مرتبہ آپ اجمیر سے دہلی تشریف لائے تو راستہ میں سات سو ہنود مسلمان ہوئے۔۱۳ آپ کو جہاں موقع ملتا آپ تبلیغ میں مصروف ہو جاتے۔راجہ اجمیر کا گورو ایک بڑا وڈان یوگی تھا۔خواجہ صاحب کی تبلیغی تلوار اس گورو پر پڑی اور اپنا کام کرگئی۔تب لوگوں نے سوچا کہ اتنا بڑا وڈان یوگی مسلمان ہو گیا ہے تو ضرور اس میں صداقت ہے۔چنانچہ لوگ گروہ در گروہ حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے۔تمام راجپوتانہ میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک اسلام پھیل گیا۔۱۱۴