مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 94 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 94

94 احیاء العلوم ہے۔بعض صوفیا نے پوری کی پوری حفظ کر لی تھی۔بعض صوفیا اسے الہامی تصنیف سمجھتے تھے۔شیخ محی الدین اسے خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔قطب شاہ ولی اپنا خواب بیان کرتے ہیں کہ اسے آنحضرت ﷺ نے بہت پسند فرمایا۔امام غزالی کی تصانیف پر بہت سے علماء نے حاشیے لکھے اور یورپ کے علماء نے بالخصوص ان کی قدر کی۔علم کلام میں امام صاحب کو وہی مقام حاصل ہے جوارسطو کو منطق میں۔تقلید کے سخت دشمن تھے اور عقائد کی اصلاح میں مصروف رہتے۔آپ نے بڑے بڑے بادشاہوں کو خط لکھے اور ان کو اصلاح عقائد کی دعوت دی اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ تاریخ اس بارے میں خاموش ہے۔آج تقریباً تمام دنیا میں الہیات، نبوات اور معاد کے متعلق مسلمانوں کے جو معتقدات اور مسلمات ہیں یہ در حقیقت امام غزالی کے ہی مقرر کردہ ہیں۔حضرت امام غزائی کے متعلق ارشادات حضرت مسیح موعود فقراء ریا کا رہو گئے ہیں فرمایا: ”صوفیوں نے اس قسم کے ملامتی لوگوں کے بہت قصے لکھے ہیں۔امام غزائی نے بھی لکھا ہے کہ آج کل کے فقراء ریا کار ہوتے ہیں۔تین کی آسانی کو مد نظر رکھ کر موٹے جھوٹے کپڑے تو پہنتے نہیں اس لیے باریک کپڑوں کو گیر و یا سبز رنگ لیتے ہیں اور اس کے جسے پہن کر اپنے کو فقراء مشہور کرتے ہیں۔مقصود ان کا یہ ہوتا ہے کہ لوگوں سے متمیز ہوں اور عوام الناس خصوصیت سے ان کی طرف دیکھیں۔پھر روزہ داروں کا ذکر لکھا ہے کہ کوئی روزہ دار مولوی کسی کے ہاں جاوے اور اسے مقصود نہ ہو کہ اپنے روزہ کا اظہار کرے تو مالک خانہ کے استفسار پر بجائے اس کے کہ سچ بولے کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے اس کی نظروں میں بڑا نفس کش ثابت کرنے کیلئے جواب دیا کرتے ہیں کہ مجھے عذر ہے۔غرضیکہ اسی طرح کے بہت سے مخفی گناہ ہوتے ہیں جو اعمال کو تباہ کرتے ہیں“۔ہے