دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 31 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 31

31 میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ ظہور کرنے والا مسیح دجال کا خاتمہ کرے گا۔اس پس منظر میں ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ مسیح ہونے کے مدعی کے دعوی کا قرآن اور احادیث کی روشنی میں بغور جائزہ لے ورنہ اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ وہ بچے مسیح کی مخالفت کرنے والا اور دجال کا ساتھی بن جائے گا۔ایک اور لغو الزام۔کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ شرعی نبوت کا تھا؟ اس کے بعد کچھ دیر مفتی محمود صاحب نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی تحریرات کے کچھ حوالے دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ فرمایا تھا۔جہاں تک جماعت احمد یہ مبایعین کا تعلق ہے تو اس تگ و دو کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں حوالوں کے ساتھ اپنا یہ عقیدہ درج کیا گیا تھا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ آنحضرت مے کی غلامی میں اور آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق امتی نبی کا درجہ رکھتے ہیں لیکن اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے یہ لغو اور بے بنیاد الزام دہرایا کہ آپ کا دعوی شرعی نبی ہونے کا ہے۔مفتی صاحب نے کہا: حقیقت تو یہ ہے کہ مرزا صاحب کے روز افزوں دعاوی کے دور میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب انہوں نے غیر تشریعی نبوت سے بھی آگے قدم بڑھا کر واضح الفاظ میں 66 اپنی وحی اور نبوت کو تشریعی قرار دیا ہے۔“ (کارروائی صفحہ ۱۸۳۹) مفتی محمود صاحب کے نام نہاد دلائل کا ذکر کرنے سے قبل اس ضمن میں حضرت بانی جماعت احمدیہ کے ارشادات درج کیے جاتے ہیں اور یہ حوالے جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں بھی درج کیے گئے تھے اور سپیشل کمیٹی کے سامنے بھی پڑھے گئے تھے۔اس لیے یہ عذر بھی پیش نہیں کیا جا سکتا کہ مفتی محمود صاحب یا ممبران اسمبلی ان سے بے خبر تھے۔حضرت بانی جماعت احمدیہ تحریر فرماتے ہیں: ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے، رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔“ ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۱۱،۲۱۰)