دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 30
30 مفتی محمود صاحب کا دجال کے متعلق پیش کردہ نظریہ اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے یہ احادیث پڑھیں : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تمہیں کے لگ بھگ دجال اور کذاب پیدا نہ ہوں جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے 66 مفتی محمود صاحب نے اس حدیث کا یہ حوالہ پیش کیا کہ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔) قریب ہیں میری امت میں تمیں جھوٹے پیدا ہوں گے۔ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“ مفتی محمود صاحب نے اس کا حوالہ یہ پیش کیا کہ یہ حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس مضمون کی حدیث صحیح مسلم میں تو موجود نہیں البتہ جامع ترمذی میں موجود ہے۔) یہ درست ہے کہ بعض احادیث میں آنحضرت علی نے انذار فرمایا ہے کہ بعض جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہوں گے اور ان کو ان کے قریب کی وجہ سے دجال کا نام بھی دیا گیا ہے لیکن یہ درست نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے صرف جھوٹے مدعیان کی خبر دی ہے۔اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اب صرف جھوٹے اور دجال ہی آئیں گے اور تو اور اب وحی کا دروازہ بھی مکمل طور پر بند ہے۔اب اللہ تعالیٰ سے کوئی شرف مکالمہ بھی نہیں حاصل کر سکتا تو اس میں تو اسلام کی ہتک ہے۔گویا کہ اب صرف نحوستوں کے دروازے ہی کھلے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے بچے مہدی اور مسیح کے آنے کی خوشخبری بھی دی ہے اور یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ مسیح اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوت پر فائز ہوگا۔جہاں زہر ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تریاق بھی مہیا کیا گیا ہے۔آنحضرت ﷺ نے یہ بھی تو فرمایا ہے کہ دجال کا مقابلہ موعود مسیح کرے گا اور اس موعود وجود کو آنحضرت ﷺ نے نبی کے نام سے یاد فرمایا ہے اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ جس دشمن کا سچا مسیح مقابلہ کرے گاوہ دشمن بھی دجال ہوگا جیسا کہ صحیح مسلم کی کتاب الفتن و اشراط الساعة میں حضرت نواس بن سمعان سے مروی مشہور حدیث