دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 140 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 140

140 اور محض خالی دعوی دہراتے رہے لیکن جماعت احمدیہ کی طرف سے جو محضر نامہ پیش کیا گیا تھا اس کے صفحہ ۹۴ تا صفحہ ۹۹ پر قرآن کریم کی آیات سے وہ دلائل پیش کئے گئے تھے جن سے جماعت احمدیہ کا موقف ثابت ہوتا تھا۔اس مرحلہ پر مفتی محمود صاحب اس خفت سے بچنے کی کوشش کرنا چاہتے تھے کہ وہ مذکورہ دلائل کا جواب نہیں دے سکے۔چنانچہ انہوں نے کہا: مسلمانوں کو متاثر کرنے کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ مرزا صاحب کی نبوت“ کے لئے قرآن کریم سے بھی کوئی تائید تلاش کی جاتی تاکہ کم از کم کہنے کو یہ کہا جاسکے کہ قرآن سے بھی استدلال کیا گیا ہے۔اس مقصد کے لئے قرآن کریم کی جو آیت مرزائی صاحبان ن کی طرف سے تلاش کر کے لائی گئی ہے وہ یہ ہے۔وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِيْنَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ 66 نے انعام کیا ہے یعنی نبیوں کے ساتھ اور صدیقوں کے ساتھ اور شہداء کے ساتھ اور صالحین کے ساتھ اور یہ لوگ بہترین ساتھی ہیں۔“ ( کاروائی صفحہ ۲۰۰۴) اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے یہ تنقید شروع کی کہ یہ آیت اس موضوع کے لحاظ سے غیر متعلقہ ہے کیونکہ اس آیت میں ” مع “ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور اس کے بعد یہ ذکر ہے کہ حسن اولئك رفيقا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں پر یہ ذکر ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کریں گے انہیں اللہ کے رسولوں کی معیت حاصل ہو گی اور یہ مراد ہو ہی نہیں سکتی کہ انہیں مقام نبوت مل سکتا ہے کہ نہیں۔ہم یہاں پر مفتی محمود صاحب کے اعتراضات کا تجزیہ پیش کریں گے۔سب سے پہلے تو لغوی پہلو کا جائزہ لیتے ہیں۔قرآن کریم کی لغت مفردات امام راغب میں ” مع “ کے مطالب بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کبھی مع اجتماع کے معنی کو چاہتا ہے خواہ وہ اجتماع مکانی ہو یا زمانی ہو یا پھر یہ اجتماع معنوی طور پر ہو۔پھر لکھا ہے: