دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 102
102 سخت بیانی کا الزام اور اصل موضوع سے گریز جاری اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے یہ کوششیں شروع کیں کہ کسی طرح ممبران اسمبلی کو یہ یقین دلایا جائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات میں مسلمانوں کو ان کے علماء کو بہت سخت گالیاں دی ہیں اور بہت دشنام طرازی سے کام لیا ہے۔اس کا مقصد بالکل واضح ہے کہ اس طرح ممبران کو اشتعال دلایا جائے اور وہ اصل موضوع پر کارروائی چلانے کا مطالبہ نہ کریں۔اس کی تمہید کے طور پر مفتی صاحب نے کہا: انبیاء علیہم السلام کے بارے میں یہ بات طے شدہ ہے کہ وہ دشنام طرازی کبھی نہیں کرتے۔انہوں نے کبھی گالیوں کے جواب میں بھی گالیاں نہیں دیں۔اس معیار کے مطابق مرزا صاحب کی مندرجہ ذیل عبارتیں ملاحظہ فرمائیں۔اس کے بعد انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں کے حوالے پیش کیے جو کہ زیادہ تر انجام آتھم کے تھے۔پہلے تو اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ انبیاء علیہ السلام کے کلام میں یا آسمانی صحیفوں میں کبھی سخت الفاظ استعمال ہوتے ہیں کہ نہیں اور اگر ہوتے ہیں تو کس موقع پر اور اس میں حکمت کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وحی میں اور انبیاء کے کلام میں ایسے الفاظ استعمال ہوتے آئے ہیں جن کو بعض لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے سخت کلامی کا نام دے دیتے ہیں حالانکہ یہ صرف حقیقت حال کا اظہار ہوتا ہے اور روحانی طبیب ہونے کے ناطے سے انبیاء کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی خطرناک روحانی بیماریوں سے مطلع کریں ورنہ ان کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔سب سے پہلے ہم قرآن کریم کی چند آیات کریمہ کی مثال پیش کرتے ہیں کیونکہ الہامی کتب میں بھی ہمیشہ کے لیے قرآن کریم افضل ترین کلام ہے۔مفتی محمود صاحب نے اس بات کو بھی ان اعتراضات کے ساتھ پیش کیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریر میں مخالفت اور بد زبانی میں تمام حدود کو پھلانگ جانے والوں کے لیے لعنت کے الفاظ استعمال کیسے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ان لوگوں کے بارے میں جونشان سماوی کا انکار کریں فرماتا ہے کہ ان پر لعنت ہے، اللہ کی لعنت ہے، فرشتوں اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے