دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 81
81 واقع نہیں ہوا جیسا کہ قرآن کی آیت میں ہے اور اسی کے مطابق آیات پیش کردہ فریق ثانی کے ضمن میں نقل ہوا اور دو شہرون سے کوئی اور دو شہر (مثلاً لدہانہ اور امرتسر ) اور سردار آدمی سے کوئی مولوی فاضل ( جیسے سرگروہ فریق اول و ثانی) مراد قرار دیتے ہیں چنانچہ بصفحہ ان الفاظ ملہمہ کا ترجمہ ان لفظوں سے کرتے ہیں اور کہیں گے کہ کیوں نہیں یہ (ان کا الہام ) اترا کسی عالم و فاضل پر اور شہروں میں سے الخ۔اور آیت نمبر ۵ کے قرآن میں تو وہ یہی معنی سمجھتے ہیں کہ وہ آنحضرت کے خطاب میں نازل ہوئی ہے اور اس میں آپ سے پہلے رسولوں کا حال بیان ہوا ہے اور جس میں آپ کی رسالت کی طرف بھی اشارہ ہے۔(براہین احمدیہ پر ریویواز مولوی محمد حسین بٹالوی اشاعۃ السنہ صفحہ ۲۱۸ تا ۲۲۰ نمبر۷ جلدے جون جولائی اگست ۱۸۸۴ء) اس مدلل حوالے سے ظاہر ہے کہ جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالفین کے نزدیک بھی یہ بات کسی پہلو سے قابل اعتراض نہیں تھی کہ کسی ملہم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیات قرآنی الہام ہوں۔مفتی محمود صاحب کا اعتراض ایک تو علمی طور پر بھی بے بنیاد تھا لیکن اس کے لیے بھی انہیں اپنے بیان میں مسلسل جھوٹ کی آمیزش کرنی پڑ رہی تھی۔اسی ضمن میں انہوں نے دسویں مثال یہ پیش کی: (۱۰) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خصوصی اعزاز یعنی معراج کو بھی مرزا نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھا کہ یہ میرے بارے میں کہا گیا ہے کہ سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى۔پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے گئی۔(دیکھیے حقیقۃ الوحی صفحہ ۷۶ ) ( کارروائی صفحہ ۱۹۴۷) گویا مفتی محمود صاحب یہ الزام لگا رہے ہیں کہ سورۃ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں آنحضرت علی کی جو معراج کا ذکر ہے اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نعوذ باللہ اپنی طرف منسوب کیا ہے یعنی یہ معجزہ آنحضرت ﷺ کا نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا۔یہ سفید جھوٹ تھا۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ مفتی محمود صاحب الہام کے غلط الفاظ پڑھ کر سنا رہے تھے اور اپنی طرف سے الہام