دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 72 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 72

72 انہیں تھا دیے تھے اور انہوں نے شاید کبھی مکمل حوالے دیکھے بھی نہیں تھے اور نہ ہی انہیں ان حوالوں کے علمی پس منظر کا کچھ علم تھا۔اس موقع پر انہوں نے یہ حوالہ پڑھ کر یہ اعتراض اُٹھانے کی کوشش کی کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آپ کو خدا قرار دیا ہے۔مفتی صاحب مزید کہتے ہیں : اور دائیکل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں خدا کی مانند۔یہ گویا اس الہام کے مطابق ہے جو براہین احمدیہ میں ہے أَنْتَ مِنْئُ بِمَنْزَلَةِ تَوْحِيدِي وَ تَفْرِيدِى ( اربعین نمبر ۳ صفحہ ۳۰ کا حاشیہ معبود قادیان ۱۹۰۰ء) اگر پورا حوالہ پڑھا جائے تو کوئی بھی ذی ہوش اسے خدا ہونے کا دعویٰ نہیں قرار دے سکتا بلکہ یہ مضمون بیان ہو رہا ہے کہ مختلف مذہبی کتب میں مختلف قسم کے استعارے بیان ہوئے ہیں اور آخر میں دانیال نبی کی کتاب میں استعمال ہونے والے استعارے کا ذکر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: اسی وجہ سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانی ایل اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں بھی جہاں میرا ذکر کیا گیا ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے اور بعض نبیوں کی کتابوں میں میری نسبت بطور استعارہ فرشتہ کا لفظ آ گیا ہے اور دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنے میکائیل کے ہیں خدا کی مانند (روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۶۱) یہاں یہ حقیقت بیان کی جارہی ہے کہ مختلف مذہبی کتب میں مختلف استعارے استعمال کیے جاتے ہیں۔بائبل کی کتب میں جن میں دانیال نبی کی کتاب بھی شامل ہے یہ استعارے استعمال ہوئے ہیں جو کہ عبرانی زبان کے استعارے ہیں۔یہ حقیقت تو ہر پڑھا لکھا شخص جانتا ہے کہ بائبل میں عبرانی زبان کے جو استعارے استعمال ہوئے ہیں ان میں خدا کا بیٹا ہونے کا استعارہ بھی شامل ہے جس سے غلطی کھا کر عیسائیوں نے حضرت عیسی کو حقیقت میں خدا کا بیٹا سمجھ لیا اور عالم اسلام کے