دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 172 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 172

172 as numerous Islamic schools and colleges۔Arab-operated schools teach Islamic studies and Arabic, in addition to the Israel Ministry of Educations general curriculum http://mfa۔gov۔il/MFA_Graphics/MFA%20Gallery/Israel 60/ch6۔pdf (on 30۔10۔2015) ترجمہ: اسرائیل کی مسلمان آبادی بنیادی طور پر ۱۴ لاکھ سنی عربوں پر مشتمل ہے۔یہ زیادہ تر اسرائیل کے شمال میں بستے ہیں۔مسلمانوں میں Circassians اور بدو شامل ہیں۔معبد کے پہاڑ پر قبۃ الصغر کی اور مسجد اقصیٰ موجود ہیں۔مسجد اقصیٰ اسلام کی تیسری مقدس ترین جگہ ہے۔ایک اور اہم جگہ عکا میں مسجد الجزر ہے۔اسرائیل سو سے زائد مساجد کی اعانت کر رہا ہے اور ان کے اماموں کو تنخواہ دے رہا ہے۔اس کے علاوہ اسرائیل ان مساجد میں استعمال ہونے کے لیے قرآن خرید کر دیتا ہے۔اسرائیلی حکومت بہت سے عرب سکولوں، اسلامی مذہبی مدرسوں اور کالجوں کی مالی اعانت کر رہا ہے۔عربوں کے چلائے جانے والے سکول اسرائیلی وزارت تعلیم کے نصاب کے علاوہ اسلامیات اور عربی پڑھاتے ہیں۔اسرائیل کی حکومت یہ انکشاف کر رہی ہے کہ اسرائیل میں جو مسلمان آباد ہیں ان میں اکثریت سنیوں کی ہے جن کی تعداد م الا کھ ہے۔یہ کوئی خفیہ معلومات تو نہیں ساری دنیا ان کو جانتی ہے لیکن اس کے باوجود مفتی محمود صاحب کس دیدہ دلیری سے یہ دعوی پیش فرما ر ہے تھے کہ قیام اسرائیل کے بعد تمام مسلمانوں کو وہاں سے چن چن کر نکال دیا گیا تھا اور اگر کسی کو رہنے دیا گیا تو احمدیوں کو وہاں رہنے دیا گیا اور تمام ممبران اسمبلی یہ لغو دعوئی خاموشی سے سن بھی رہے تھے۔اور اس رپورٹ کا اگلا حصہ تو ملا حظہ کریں۔ان لوگوں کی سو مساجد ہیں جن کے اخراجات اور ائمہ کی تنخواہیں بھی اسرائیل کی حکومت اُٹھا رہی ہے۔آخر کیوں؟ اب تک تو یہ مولوی حضرات یہ الزام لگاتے رہے کہ اسرائیل کی حکومت جماعت احمدیہ کی سر پرستی کر رہی ہے لیکن آخر بھانڈا یہ پھوٹا کہ خود ان لوگوں کی سر پرستی