دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 160
160 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے جہاد کی تنسیخ کا اعلان کیا اس تمہید کی تو کوئی بنیاد نہیں تھی۔جھوٹ کا سہارا لیا گیا تھا۔تاریخی حقائق کی بجائے خودساختہ سنسنی خیز کہانیاں بیان کی گئی تھیں۔اب مفتی محمود صاحب اس فرسودہ الزام کی طرف آ رہے تھے جس کولگانے کے لیے یہ سب کچھ کرنا پڑا تھا یعنی بانی سلسلہ احمدیہ نے جہاد کے منسوخ ہونے کا اعلان کیا جب کہ یہ اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔جیسا کہ ان کی تقریر کے مندرجات سے ظاہر تھا ان کا خیال تھا کہ اسلامی جہاد کا تصور جنگوں اور قتال تک محدود ہے۔انہوں نے کہا: انگریز کی ان وفا شعاریوں کا نتیجہ تھا کہ مرزا قادیانی نے کھلم کھلا جہاد کے منسوخ ہونے کا اعلان کر دیا۔جہاد اسلام کا ایک مقدس دینی فریضہ ہے۔اسلام اور مسلمانوں کی بقا کا دارو مدار اسی پر ہے۔شریعت محمدی نے اسے قیامت تک اسلام اور عالم اسلام کی حفاظت اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ بنایا ہے۔قرآن کریم کی بیشمار آیات اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے بیشمار احادیث اور خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی عملی زندگی ان کا جذبہ جہاد و شہادت یہ سب باتیں جہاد کو ہر دور میں مسلمانوں کے لئے ایک ولولہ انگیز عبادت بناتی رہیں۔آنحضرت کا واضح ارشاد ہے۔“ ( کارروائی صفحہ نمبر ۲۰۲۵) جہاں تک جہاد کے بارے میں جماعت احمدیہ کے نظریات کا تعلق ہے تو وہ جماعت احمدیہ کے پیش کردہ محضر نامہ میں بیان ہو چکا ہے۔محضر نامہ کا آٹھواں باب ”انکار جہاد کے الزام کی حقیقت اسی الزام کے بارے میں تھا۔اس باب میں بانی سلسلہ احمدیہ کے ارشادات کی روشنی میں جماعت احمدیہ کا اصولی موقف بیان کیا گیا تھا اور معتبر حوالے درج کیے گئے تھے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ اس وقت کے اکثر علماء نے ہی فتویٰ دیا تھا اور مسلمانوں کے لیڈروں نے یہی راہنمائی کی تھی کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے انگریز حکومت کے خلاف جہاد جائز نہیں ہے۔اس پس منظر میں یہ بات بالکل خلاف عقل ہے کہ ان سب کو چھوڑ کر جماعت احمدیہ پر یہ الزام لگایا جائے کہ جہاد کے مسئلہ پر