دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 153
153 ہندوستان کے انگریز حکمرانوں کے خلاف جہاد جائز نہیں ہے اور جو ایسا کرے گا ہندوستان کے مسلمان اس کے خلاف اپنے حکمرانوں کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔(The Indian Mussalmans, by W۔W۔Hunter, published by Sange-Meel 1999, p216-219) اس ایک مثال سے ہی ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی سے قبل ہی انگریز مسلمان علماء سے اپنے مقاصد حاصل کر چکے تھے اور صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ مکہ مکرمہ کے علماء بھی یہ فتوی دے چکے تھے کہ ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جہاد جائز نہیں۔مختلف مسالک سے وابستہ مولوی صاحبان ہندوستان بلکہ پورے عالم اسلام پر عیسائی پادریوں کی یلغار کوروکنے کے لیے تو کچھ نہیں کر رہے تھے البتہ برطانوی راج کے حق میں فتاوی صادر کرنے میں بہت مستعدی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔مفتی محمود صاحب نے تاریخی حقائق پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک اور طریقہ اختیات کیا۔انہوں نے یہ دعویٰ پیش کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ سے قبل برطانوی راج کو دراصل یہ مسئلہ در پیش تھا کہ ان کے خلاف عالم اسلام میں جگہ جگہ جہاد کے علم بلند ہورہے تھے اور عالم اسلام جہاد کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔برطانوی حکمرانوں کے خلاف کامیاب جہاد کی دو مثالیں پیش کی گئیں۔ذرا ملاحظہ کریں مفتی صاحب فرماتے ہیں: انیسویں صدی کا نصف آخر جو مرزا صاحب کے نشو ونما کا دور ہے اکثر ممالک اسلامیہ جہاد اسلامی اور جذبہ آزادی کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے۔برصغیر کے حالات تو مختصراً معلوم ہو چکے۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہی زمانہ ہے جب برصغیر کے باہر پڑوسی ممالک افغانستان میں ۷۹۔۱۸۷۸ء میں برطانوی افواج کو افغانوں کے جذبہ جہاد وسروشی سے دو چار ہونا پڑتا ہے جو بالآ خر انگریزوں کی شکست اور پسپائی پر ختم ہو جاتا ہے۔“ کارروائی صفحہ ۲۰۲۰)