دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 83
83 اور اس دور کا حقیقی آدم کون ہے اس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: و ان ادم آخر الزمان حقيقة هو نبينا یعنی اس آخری زمانہ کے آدم ہمارے نبی کے ہیں روحانی خزائن جلد ۶ اصفحہ ۲۵۷، ۲۵۸) پوری عبارت پڑھی جائے تو بالکل ایک علیحدہ مضمون سامنے آتا ہے۔اس الہام میں معراج کو اپنی طرف منسوب کرنے کا کوئی ذکر ہی نہیں۔بالکل علیحدہ روحانی مضمون بیان ہوا ہے۔یہاں اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ ان مولوی صاحبان نے جب کسی کے خلاف کفر کا فتویٰ لگانا ہو تو بسا اوقات اس پر قرآن مجید میں تحریف کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔چنانچہ اسی قسم کا الزام شیعہ فرقہ پر بھی لگایا گیا کہ وہ قرآن کریم کو محفوظ نہیں سمجھتے اور محرف خیال کرتے ہیں اور یہ کہ ان میں سے بعض کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم ابھی مکمل نہیں اور مکمل حالت میں امام مہدی پر نازل ہوگا۔(Sectarian War, by Khaled Ahmed, Oxford 2013p 88-89) خمینی اور اثناعشریہ کے بارے میں علماء کرام کا متفقہ فیصلہ ماہنامہ بینات خصوصی اشاعت صفحه ۲ ۵ تا ۶۴) اب صورت حال یہ تھی کہ مفتی محمود صاحب واضح غلط بیانی کر رہے تھے اور ان کو درست کرنے والا کوئی نہیں تھا کیونکہ وہاں پر جماعت احمدیہ کا وفد موجود نہیں تھا جو کہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا۔اس طرح پس پردہ کارروائی کے نام پر ڈھونگ کیا جا رہا تھا۔اس کے علاوہ مفتی محمود صاحب اپنے دعاوی کے حق میں وہ حوالے پیش کر رہے تھے جن میں ان کے دعاوی کی تصدیق کے بارے میں اشارہ تک نہیں پایا جاتا تھا۔اس مرحلہ پر انہوں نے یہ دعویٰ پیش کیا کہ نعو باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دعوئی فرمایا تھا کہ ان کی وحی قرآن کریم کے برابر ہے۔مفتی محمود صاحب نے کہا : پھر یہ جسارت یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ مرزا غلام احمد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس پر نازل ہونے والی نام نہا دوجی (جس میں انتہائی درجے کی کفریات اور بازاری باتیں بھی موجود ہیں) ٹھیک قرآن کے برابر ہے۔چنانچہ اپنے ایک فارسی قصیدے میں وہ