دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 65 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 65

65 مفتی محمود صاحب وہی حوالہ پیش کر رہے تھے جو کہ پہلے بھی سوال و جواب کے دوران پیش کیا گیا تھا اور اسی الزام کے ساتھ پیش کیا گیا تھا جسے اب مفتی محمود صاحب پھر دہرا رہے تھے لیکن جب حضرت امام جماعت احمدیہ نے پورا حوالہ پیش کیا تو حقیقت بالکل برعکس نکلی۔جب حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے پورا حوالہ پیش کیا تو یہ حقائق سامنے آئے۔1۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب یہ بیان فرما رہے تھے کہ انگریز حکومت اور کانگرس کے بعض حصوں کا خیال ہے کہ وہ مسلمانوں کو تقسیم کر کے اپنے مقاصد حاصل کر سکیں گے اور اس غرض کے لیے وہ مسلم لیگ کو نظر انداز کر کے خود مسلمانوں سے رابطہ کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔2۔حضور نے فرمایا تھا اس موقع پر سب مسلمانوں کو حکومت پر واضح کر دینا چاہیے کہ مسلم لیگ کو ان کی حمایت حاصل ہے تاکہ مسلم لیگ کی آواز کو تقویت حاصل ہوا ور یہ آواز تھی جو کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے اُٹھائی جارہی تھی اور جس کو پیش کرنے کی بات کی جارہی تھی۔3)۔سب سے اہم بات یہ کہ حضور نے حکومت اور کانگرس کو متنبہ کیا تھا کہ اب اگر مسلم لیگ اور حکومت میں جنگ ہوئی تو جماعت احمد یہ مسلم لیگ کی طرف سے اس جنگ میں شامل ہوگی۔اور جماعت احمدیہ کی طرف سے اس اعلان کی ضرورت اس لیے بھی زیادہ تھی کیونکہ مفتی محمود صاحب اور ان کے ہم خیال بیشتر دیو بندی مولوی صاحبان اس وقت مسلم لیگ کی مخالفت پر کمر بستہ تھے۔بہر حال مندرجہ بالا نکات بالکل واضح ہیں۔مکمل عبارت سے تو بالکل برعکس منظر سامنے آ رہا تھا اور جیسا کہ ہم گزشتہ کتاب میں حوالہ درج کر چکے ہیں اور اس کا رروائی کے صفحہ ۶۲۸ اور ۶۲۹ کو پڑھ کر ہر شخص خود جائزہ لے سکتا ہے کہ جب حضور نے تمام حوالہ پڑھ کر سنایا تو اٹارنی جنرل صاحب کوئی جواب نہ دے سکے کہ آخر اس پر کیا اعتراض کیا جارہا تھا۔اس وقت یا اس کے بعد مفتی محمود صاحب کو بھی یہ ہمت نہیں ہوئی کہ اُٹھ کر اس اعتراض کے دفاع میں کچھ کہہ سکتے۔ان کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں تھا لیکن اب جب کہ جماعت احمدیہ کا وفد وہاں موجود نہیں تھا تو وہی اعتراض دہرایا جارہا تھا جو پہلے ہی بے بنیاد ثابت ہو چکا تھا۔