دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 59
59 مجموعہ فتاوی احمدیہ صفحہ ۲۷۵ جلد اول بحوالہ اخبار الحکم جلد ۵ صفحه ۸ مورخہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۱ء ( کارروائی صفحه ۱۹۱۳) اس حوالے کی حقیقت یہ ہے کہ مجموعہ فتاوی احمدیہ کی جلد ا جس کے صفحہ ۲۷۵ کا حوالہ دیا گیا ہے۔اس جلد کے کل ۱۸۴ صفحات ہیں اور اس کے ساتھ الحکم ۷ار مارچ 1911ء کا حوالہ دیا گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس روز الحکم شائع ہی نہیں ہوا تھا۔اس دور میں احکم مہینے میں صرف چار مرتبہ شائع ہوتا تھا اور جلد ۱۵ کا نمبر ، شمارہ ۱۴ مارچ ۱۹۱۱ ء کو شائع ہوا تھا اور نمبر ا اشمارہ ۲۱ / مارچ ۱۹۱۱ء کو شائع ہوا تھا اور ہر شمارے کے او پر جلی حروف میں لکھا ہوا ہوتا تھا کہ ہر ماہ کی ۷ ،۲۱،۱۴ اور ۲۸ تاریخ کو شائع ہوتا ہے۔پھر مفتی محمود صاحب نے غالباً اپنی تقریر میں کچھ وزن پیدا کرنے کی کوشش میں ہر عبارت کے ساتھ تین حوالوں کے پڑھنے کا سلسلہ جاری رکھا اور ایک عبارت کے ساتھ یہ حوالہ پیش کیا۔مجموعہ فتاوی احمدیہ صفحہ ۳۸۵ جلد اول بحوالہ اخبار الحکم نمبر ۱۹ جلد ۱۹۰۲٬۱۸ء ۲۸ رمئی ۱۹۱۴ء ( کارروائی صفحه ۱۹۱۳) گویا یہ کہہ کر اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی کوشش کی کہ ۲۸ رمئی ۱۹۱۴ء کے الحکم میں شائع ہونے والی یہ عبارت جماعت کے لٹریچر میں تین مختلف مقامات پر شائع ہوئی ہے۔اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ 1)۔مجموعہ فتاوی احمد یہ مولوی محمد فضل خان صاحب کی مرتب کردہ ہے اور خادم التعلیم سٹیم پریس لاہور سے شائع ہوئی تھی اور اس کی پہلی جلد جس کا حوالہ دیا گیا ہے اس کے کل ۱۸۴ صفحات ہیں۔یہ بات قابل حیرت ہے کہ مفتی صاحب نے اس کتاب کی اس جلد کے صفحہ نمبر ۳۸۵ کا حوالہ کس طرح دے دیا۔2)۔اس عبارت کا دوسرا حوالہ الحکم نمبر ۱۹ جلد ۱۸ ۱۹۰۲ء کا دیا گیا ہے۔غالباً یہ تاثر پیدا کرنے کے لیے کہ یہ عبارت الحکم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں شائع ہوا تھا۔یہ حوالہ بھی اس لیے غلط ہے کہ ۱۹۰۸ ء تک یعنی جس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوا تھا الحکم کی